کراچی پولیس کے ایس ایس پی اسلم خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ فائرنگ ارشد پپو کے گروہ کے ارکان کے درمیان ہوئی جس کے نتیجے میں ارشد پپو ان کا بھائی اور ایک ساتھی ہلاک ہو گئے۔
ارشد پپو لیاری کی گینگ وار کے مرکزی کرداروں میں سے ایک تھے جبکہ اسی گینگ وار کا دوسرا مرکزی کردار رحمٰن ڈکیت تھا اور یہ دونوں ماضی میں ایک ہی گروہ کا حصہ بھی رہے ہیں۔
رحمٰن بلوچ جو رحمٰن ڈکیت کے نام سے مشہور تھے چوبیس اگست دو ہزار پانچ کو ایک مبینہ پولیس مقابلے میں تین ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے تھے۔
پولیس کے مطابق رحمٰن اور ارشد ماضی میں مختلف جرائم میں اکٹھے شریک رہے تھے جبکہ بعد میں دونوں میں اس وقت گینگ وار چھڑ گئی جب رحمٰن نے ارشد کے سالے عنایت کو قتل کردیا۔ اس تنازعے کی وجہ ڈیڑھ سو روپے بتائی جاتی ہے۔ پولیس کے مطابق عنایت رحمٰن ڈکیت کے اڈے پر افیون لینے گیا تھا اور دونوں میں ڈیڑھ سو روپے پر جھگڑا ہوگیاجس پر طیش میں آ کر رحمٰن نے عنایت کو قتل کردیا تھا۔
اس لڑائی کے بعد دونوں نے اپنے علیحدہ گروہ بنا لیے اور لیاری ان گروہوں کے درمیان میدان جنگ بن گیا اور یوں اس گینگ وار کے بعد ارشد پپو کا نام منظرِ عام پر آیا۔
پولیس کا اب کہنا ہے کہ دونوں گروہوں کے سرغنہ اب اتنے سرگرم نہیں رہے تھے جس کی بناء پر دونوں گروہوں میں مزید چھوٹے گروہ بن گئے اور ہر گروہ علاقے میں اپنا کنٹرول چاہتا ہے جس کی وجہ سے اب علاقے میں بدامنی ایک نیا رخ اختیار کیے ہوئے ہے۔
یاد رہے کہ ارشد پپو کو پولیس نے گیارہ اکتوبر دو ہزار چھ کو گرفتار بھی کیا تھا۔ پولیس کے مطابق اس وقت ارشد پپو اغوا، تاوان اور قتل سمیت ساٹھ مقدمات میں مطلوب تھا اور اس کی گرفتاری پر تیس لاکھ رپے انعام مقرر کیا تھا۔
کراچی میں گزشتہ کئی سالوں سے جاری گینگ وار میں متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
بی بی سی اردو
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام