کچھ عرصہ قبل ہی اسلام قبول کرنے والے انتیس سالہ رچرڈ ڈارٹ، اکیس سالہ عمران محمود اور چھبیس سالہ جہانگیر عالم کو جمعہ کے دن برطانیہ کی مرکزی کرمنل کورٹ کے جج کے سامنے وڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا۔
تینوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ناصرف دہشت گردی کی تربیت حاصل کرنے کے لیے پاکستان کا سفر کیا بلکہ وہ دوسرے ملکوں میں بھی دہشت گردی کی کارروائیوں کی غرض سے گئے۔
اس کے علاوہ ان ملزمان نے پاکستان میں سفر، دہشت گردی کی تربیت اور آپریشنل سیکیورٹی کے حوالے سے بھی معلومات کا تبادلہ کیا۔
یاد رہے کہ ان تین ملزمان کو پچھلے سال جولائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ڈارٹ نے، جو اپنے سوتیلے بھائی کی ایک بی بی سی ڈاکیو منٹری میں بھی کام کر چکے ہیں، مسلمان ہونے کے بعد اپنا نام صلاح الدین البراطانی رکھ لیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق ڈارٹ ماضی میں پولیس سپورٹ افسر رہنے کے علاوہ بی بی سی میں سیکیورٹی گارڈ بھی تعینات رہے تھے۔
ڈان نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان