عینی شاہدین نے بتایا کہ چالیس انتہا پسند یہودیوں نے مسلمانوں کے قبلہ اول پر چڑھائی کی۔ یہودی آبادکار مسجد اقصی اور پہاڑی کے گنبد میں آزادانہ گھومتے رہے۔ یہودی آبادکاروں نے وہاں موجود نمازیوں پر حملہ بھی کیا جس سے ایک فلسطینی نمازی کو درمیانے زخم آئے۔
یہودی آبادکاروں کے مسجد میں داخلے کی خاطر انہیں اسرائیلی پولیس کی مکمل سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔ اس دوران فلسطینیوں کی مسجد اقصی کی جانب نقل و حرکت کو انتہائی محدود کر دیا تھا۔ آبادکار مسجد میں اپنی موجودگی کے دوران مسلسل مسلمانوں کو اشتعال دلانے والی حرکات کرتے رہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار