وزیر برائے امور اسیران عیسی قراقع نے نیوز کانفرنس کو بتایا کہ مرحوم کے جسم کے مختلف حصوں پر لگنے والی تمام ضربات تازہ تھیں اور یہ تشدد ان پر جیل میں دوران تفتیش کیا گیا۔
اسرائیلی ادارے ‘ابو کبیر’ میں ہونے والی پوسٹ مارٹم کی کارروائی میں شرکت کرنے والے فلسطینی ڈاکٹر نے بتایا کہ شہید کی کمر کی دائیں جانب نیل پڑے ہوئے تھے۔ ان کی چھاتی پر بھی تشدد کے آثار نمایاں تھے۔ ان کی گردن کے نیچے اور کاندھوں پر بھی شدید چوٹوں کے نشان تھے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق تشدد سے شہید کی دوسری اور تیسری پسلی کی ہڈی بھی ٹوٹی ہوئی تھی۔ مرحوم کے ہونٹ کے اندرونی حصے پر بھی شدید زخم تھا۔
ڈاکٹروں کے مطابق شہید کا دل بالکل ٹھیک تھا۔ انہیں دل کا دورہ نہیں پڑا۔ دل کی تمام شریانیں ٹھیک اور کھلی تھیں۔ انہیں دیکھ کر دل کے دورے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے جبکہ جیل حکام نے لواحقین اور رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی خاطر جرادات کے انتقال کا سبب دل کے دورے کو بیان کیا۔
ادھر اسرائیل جیل میں قید دوسرے قیدیوں نے اپنے ساتھی کی شہادت کا ذمہ دار اسرائیلی حکومت کو قرار دیتے ہوئے بھوک ہڑتال شروع کردی ہے۔
تیس سالہ عرفات جرادات کی ہلاکت کے خلاف ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر حکومت نے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیلی جیلوں میں ہزاروں فلسطینی باشندے قید ہیں جبکہ آٹھ سو سے زائد قیدیوں نے گزشتہ دو ہفتوں سے بھوک ہڑتال کر رکھی ہے۔ کئی فلسطینی باشندوں کو یہودی بستیوں کی تعمیر کے خلاف احتجاج کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
العربیہ
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار