دارالحکومت ڈھاکا سمیت سلہٹ ،بوگرا اور چٹاگانگ میں مظاہرے ہوئے۔
ڈھاکا کی مرکزی بیت المکرم مسجد کے اطراف کا علاقہ نماز جمعہ کے بعد میدان جنگ بنا رہا۔
نماز کے بعد مختلف مذہبی تنظیموں کے کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے شہرکے دیگرعلاقوں کی طرف بڑھنے کی کوشش کی۔
اس دوران پولیس اور مشتعل مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔
لٹھ بردار مظاہرین نے پولیس پر پتھراوٴ کیا اور لاٹھیاں استعمال کیں۔
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ربڑ کی گولیاں چلائیں اورکئی مظاہرین کو گرفتاربھی کرلیا۔
جیو نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان