Categories: مشرق وسطی

امت مسلمہ مسجد اقصی کے تحفظ کی ذمہ داری پوری کرے: مصری و فلسطینی علماء

فلسطین اور مصر کے جید علماء اور مبلغین نے امت مسلمہ سے مسجد اقصی اور القدس کو  اسرائیلی ریشہ دوانیوں اور آئے روز کے جارحانہ حملوں سے بچانے کے لیے مدد و نصرت کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ مطالبہ غزہ میں مصری و فلسطینی علماء کی چوتھی عالمی کانفرنس میں کیا گیا۔
جمعہ کی شام ہونے والی اس عظیم الشان کانفرنس میں فلسطین اور مصر کے سیکڑوں جید علماء اور داعیان دین نے شرکت کی۔ فلسطینی وزیر اوقاف و مذہبی امور ڈاکٹر اسماعیل رضوان نے کہا کہ یہ کانفرنس اور اس میں مصری علماء کی شرکت ہمارے درمیان گہرے تعلقات کی نشاندہی کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آج کی یہ کانفرنس مصری وزارت اوقاف کے ساتھ ہونے والے ایک معاہدے کے نتیجے می منعقد کی جا رہی ہے۔ علماء کرام کے یہ اجتماع بھی غزہ کے محاصرے کو توڑنے کی ایک کوشش ہے۔
انہوں نے قبلہ اول اور القدس کو درپیش خطرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے القدس اور مسجد اقصی کو یہودی رنگ میں رنگنے کی کارروائیوں اور سازشوں کا سلسلہ وسیع کر رکھا ہے۔ گنبد صخرہ کو شہید کر کے اس کی جگہ ھیکل سلیمانی تعمیر کرنے کی دھمکیاں تیز ہوتی جا رہی ہیں۔ یہودی آباد کاروں اور سکیورٹی فورسز نے مسجد اقصی پر حملے تیز کر دیے ہیں، صہیونی حکومت اہالیان القدس اور دیگر فلسطینیوں کو حرم قدسی میں نماز پڑھنے سے مسلسل روک رہا ہے۔ ادھر القدس میں فلسطینیوں کے گھروں کو منہدم کرنے کی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ غرض القدس کے خلاف دشمن کی مزموم سازشیں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی امور کی سپریم کونسل کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صلاح سلطان کا کہنا تھا کہ غزہ نے اسرائیل کی چیرہ دستیوں اور چھ سال پر محیط معاشی ناکہ بندی کے خلاف تاریخی مزاحمت کر کے امت مسلمہ کے سامنے ایک عزم و ثبات کا ایک انوکھا ماڈل پیش کر دیا ہے۔ اہل غزہ نے اسرائیل کی جانب سے مسلط کی گئی جنگوں نہ صرف دیوانہ وار مقابلہ کیا بلکہ ان میں فتح بھی حاصل کی، جس سے عرب اور اسلامی دنیا کا سر فخر سے بلند ہو گیا۔

انہوں نے بتایا کہ مصر اور فلسطین کے علماء کی اس کونسل نے فلسطین کے حوالے سے ایک نئی بنیاد قائم کی جس کے ثمرات غزہ میں وفود کی آمد کی صورت میں ظاہر ہوئے، انہوں نے زور دے کر کہا کہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے  ساری امت مسلمہ کا متحد ہو کر ٹھوس اقدامات اٹھانا انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مصری علماء کا وفد واپس جا کر مصر میں ایک روزہ بھوک ہڑتال کا اہتمام کریں گے، اس ہڑتال کا مقصد اسرائیلی جیلوں میں اپنے حقوق سلب کیے جانے کے خلاف بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی اسیران کے ساتھ اظہار یک جہتی ہو گا۔ مصری علماء کی جانب سے فلسطینی مزاحمت کی حمایت جاری رہے گی۔
اس موقع پر مصری وزارت اوقاف کے وکیل جمال عبد الستار نے کہا کہ امت کھلی آنکھوں سے فلسطینیوں کے جہاد، مزاحمت اور اسرائیل کے خلاف ڈٹ جانے کے عمل کو دیکھ چکی ہے اور اب ان فلسطینیوں کی بھرپور مدد کے لیے تیار ہے۔

مرکز اطلاعات فلسطین

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago