گیلانی فاؤنڈیشن کے تحت کیے جانے والے گیلپ پاکستان کے سروے کے مطابق ملک کے چاروں صوبوں میں 2 ہزار 732 مرد وخواتین سے پوچھا گیا کہ جب لڑکوں اور لڑکیوں کے تعلیمی اخراجات یکساں ہوں تو کیا آپ اپنی بیٹی کو”Coeducation” میں تعلیم دلوانا چاہتے ہیں جس پر 76 فیصد افراد نے لڑکیوں کی علیحدہ تعلیم کے حق میں رائے دی۔
اکیس فیصد افراد کا کہناتھا کہ لڑکیوں کو لڑکوں کے تعلیمی ادارے میں بھیجنے میں کوئی مضائقہ نہیں جب کہ 3فیصد افراد نے اس بارے میں کوئی بھی جواب نہیں دیا۔
گیلپ پاکستان کا یہ سروے 27 جنوری 2013 سے رواں ماہ کی 3 تاریخ تک کیا گیا
نیوز ٹرائب
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان