فرانس نے ملک سے مبینہ انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے غیر ملکی مبلغین کو ملک بدر کر نے کا فیصلہ کیا ہے.
فرانس کے وزیر داخلہ مینوئل ویلز نے برسلز کانفرنس کے دوران بتایا کہ فرانس نے “شدت پسندوں” کے خلاف کاروائی کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس کے تحت آنے والے دنوں میں متعدد غیر ملکی “شدت پسند” علما کو ملک بدر کردیا جائے گا.
انہوں نے کہا ہے کہ فرانس سے ایسے تمام غیر ملکی مذہبی (ان کے بقول) انتہا پسند علما کو نکال دیا جائے گا جو فرانس کے لئے مشکلات پیدا کرتے ہیں اورسیاسی عمل میں مداخلت کرتے ہیں، فرانسیسی وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ اقدام ملک میں “مذہبی انتہا پسندی” کی روک تھام کے لیے اٹھایاجا رہا ہے۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…