یہ انکشاف امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں کیا، اخبار کے مطابق ڈرون آپریشن سے آگاہ امریکی عہدے داروں کے مطابق پاکستانی حکام اس پیغام کا جواب نہیں دیتے باوجودکہ وہ سرکاری طور پر ان میزائل حملوں کی مخالفت کرتے ہیں ۔
اس (پاکستان کی خاموشی) بنیاد پر اور اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ پاکستان ممکنہحملے والی جگہ کی فضائی حدود کو بھی مزاحمتوں سے آزاد رکھتا ہے، امریکی حکومت یہ نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ اسے ایک خود مختار ملک کی حدود میں ایسے حملوں کی خاموش اجازت حاصل ہے۔
بعض مبصرین کے خیال میں امریکہ کا پاکستان کو قبل از وقت اہداف کے ممکنہ علاقوں کے بارے میں تحریری طور پرآگاہ کرنے کا مقصد ڈرون حملوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہوسکتا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق پاکستانی سرزمین پرامریکی ڈرون سے میزائل حملوں کی مہم کے ابتدائی ایام میں ممکنہ اہداف کی فہرست پاکستانی حکام کی منظوری سے تیار کی جاتی تھی۔
آئی ایس آئی فیکس پیغام وصول ہونے کی تصدیق کردیتی تھی جسے ڈرون حملوں کی تائید سمجھا جاتا تھا۔
لیکن مئی 2011 میں پاکستان کی اجازت کے بغیر اسامہ بن لادن کے خلاف ابیٹ آباد میں خفیہ امریکی آپریشن کے بعد سے آئی ایس آئی نے ڈرون حملوں سے متعلق پیغامات موصول ہونے کی تصدیق کرنے کا سلسلہ بند کردیا۔
اخبار نے دعوی کیا ہے کہ جوابی پیغامات کی بندش پاکستانی حکام کی طرف سے اظہار ناراضگی تھا اور آئی ایس آئی کے سربراہ نے یہ راستہ اختیار کیا کیونکہ ڈرون آپریشن کی اجازت نہ دینے سے تصادم کا خدشہ تھا جبکہ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ میزائل حملے پاکستان کے اجازت کے بغیر بھی جاری رہتے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام