عمران شعبان کو چند روز قبل لیبیا میں سابق مرد آہن کرنل قذافی کے حامیوں نے اغواء کے بعد بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ تاہم اسے شدید زخمی حالت میں اغواء کاروں سے چھڑا لیا گیا تھا، جس کے بعد اسے علاج کے لیے فرانس بھیجا گیا تھا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گیا۔
خیال رہے کہ عمران جمعہ شعبان نے 20 اکتوبر2011 ء کو لیبیا کے شہر سرت میں کرنل قذافی کے خفیہ ٹھکانےکی اطلاع باغیوں کو دی تھی، جس کے بعد ان کے ٹھکانے پر نیٹو فوجیوں کے جنگی جہازوں نے بمباری کی اور پھر زمینی کارروائی کرکے سابق صدر کو پکڑنے کے بعد تشدد کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔
حال ہی میں عمران کو سرت ہی سے کرنل قذافی کے حامی ایک گروپ نے اغوء کر لیا تھا۔ اغواء کے بعد عمران کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ کرنل قذافی کے ٹھکانے کا پتہ لگانے والے انقلابی کارکن کے اغواء کی خبر پھیلتے ہی حکومت حرکت میں آ گئی۔ پارلیمنٹ نے مغوی کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا، جس کے بعد عمران کو شدید زخمی حالت میں اغواء کاروں سے چھڑا تو لیا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔
سرت میں عبوری کونسل کی مقامی قیادت کی جانب سے عمران شعبان کے انتقال پرگہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اس کے خاندان سے ہمدردی کا اظہار کیا گیا ہے۔ عبوری کونسل کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ عمران کے اغواء اور تشدد میں ملوث عناصر کےخلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور انہیں بھی کرنل قذافی کی طرح ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام