تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ تنظیم کے مرکزی شورٰی نے ایک فیصلہ میں یہ اعلان کیا ہے کہ وفاقی وزیر ریلوے اور عوامی نشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء غلام بلور کی طرف سے توہین آمیز فلم بنانے والے امریکی شہری کی سر کی قیمت مقرر کرنے پر ان کا نام اس فہرست سے خارج کردیا گیا ہے جس میں ان کو نشانہ بنایا جانا تھا۔
انہوں نے کہا کہ غلام بلور نے اس متنازعہ فلم پر ایک غیرت مندانہ اور جُرت مندانہ موقف اختیار کیا ہے جس پر اگر انہوں نے آئندہ بھی طالبان کے خلاف کوئی بیان دیا تو ان کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔
طالبان ترجمان کے مطابق اس اعلان میں عوامی نشنل پارٹی کے دوسرے رہنماء شامل نہیں ہیں کیونکہ یہ بیان ان کا ذاتی موقف تھا اور اس میں پارٹی کا کوئی موقف شامل نہیں تھا۔ان کا کہنا تھا کہ عوامی نشنل پارٹی کے دیگر رہنماء بدستور ان کیے فہرست میں شامل ہونگے۔
وفاقی وزیِر ریل غلام احمد بلور نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ متنازع فلم ساز کو جو بھی قتل کرے گا وہ اسے ایک لاکھ ڈالر انعام دیں گے۔
حالانکہ پاکستان کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے غلام احمد بلور کی جانب سے پیغمبرِ اسلام کے بارے میں توہین آمیز فلم بنانے والے فلم ساز کو قتل کرنے پر انعام دینے کے اعلان کی مذمت کی تھی۔
وزیراعظم کے ترجمان کے مطابق’وزیر ریلوے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ہیں اور وزیراعظم آئندہ کے اقدام کے لیے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سے بات کریں گے، وزیر ریلوے کے خلاف کسی کارروائی سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن ابھی وہ اپنے عہدے پر کام کرتے رہیں گے۔‘
پاکستان کی مرکزی حکومت میں اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کا بھی کہنا ہے کہ ان کی جماعت سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر غلام احمد بلور کا متنازع فلم ساز کو قتل کرنے والے کو انعام سے متعلق بیان پارٹی پالیسی نہیں ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…