نیویارک (اے ایف پی) امریکی صدربارک اوبامانے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں آزادی اظہار کی آڑمیں گستاخانہ فلم کا دفاع کرتے ہوئے پرتشدّد احتجاج کی مذمت کی ہے،
جس کے جواب میں انڈونیشیا کے صدرسسیلوبامبانگ، مصرکے صدرمحمدمرسی ، افغانستان کے صدرحامدکرزئی اوراردن کے شاہ عبدالله نے اس فلم کی مذمت کرتے ہوئے اوباماکے موٴقف کو چیلنج کیا ہے،مسلم بادشاہوں، صدور اور دوسرے سربراہانِ مملکت نے کہا کہ آزادی اظہارلامحدودنہیں،مغربی ملکوں کو ’اسلام فوبیا‘ کو کچلنا چاہیے جو اس فلم سے پیدا ہونے والے طوفان کے بعد شروع ہوا ہے جس میں پیغمبرِ اسلام کا مذاق اڑایا گیا تھا۔
انڈونیشیا کے صدر سسیلو بامبانگ یدھویونو نے کہا کہ یہ فلم مذہبی ہتک کا بدنما چہرہ ہے۔
یودھویونو نے کہا کہ آزادیِ اظہار لامحدود نہیں ہے،انھوں نے ایک ایسی بین الاقوامی دستاویز کا مطالبہ کیا جو مذہبی عقائد کی بنیاد پر تشدد اور مخالفت پر اکسانے کو موٴثر طور پر روک سکے،امریکہ کے قریبی ساتھی اردن کے شاہ عبداللہ ثانی نے فلم اور اس کے نتیجے میں پھوٹ پڑنے والے تشدد کی مخالفت کی۔
افغان صدر حامد کرزئی نے انتہاپسندوں کی بداخلاقی کی مذمت کی۔
کہا کہ قاہرہ میں امریکہ مخالف مظاہروں کے باوجود امریکہ کی طرف سے عرب ممالک میں انقلاب کی حمایت سے ایک دوسرے کے احترام کا موقع مل سکتا ہے۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید