ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز نیویارک میں یو این جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا احترام کرے، اسے عزت دی جائے اور جو پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کرے، اس سے دشمنی روا رکھی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک اور دانستہ گزند پہنچانے کا سلسلہ قابل قبول نہیں۔ ” ہم کسی کو اپنے قول و فعل سے نبی کریم کی شان میں گستاخی کی اجازت نہیں دے سکتے۔”
ڈاکٹر محمد مرسی نے اپنی تقریر میں مسئلہ فلسطین کا ذکر کرنے کے بعد شامی بحران پر حاشیہ آرائی کی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں سوڈان کے حوالے سے بھی کھل کر اظہار خیال کیا۔ مسئلہ فلسطین کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا مقبوضہ فلسطینی اراضی پر یہودی آبادکاری کا جاری رہنا قابل مذمت ہے۔ نیز اس ضمن میں بین الاقوامی قراردادوں پر عمل درآمد میں لیت و لعل سے کام لینا بھی افسوسناک امر ہے۔
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا دنیا کی ذمہ بنتی ہے کہ وہ فلسطین میں منصفانہ بنیادوں پر جامع امن کی خاطر یہودی آبادکاری اور مقبوضہ بیت المقدس کے شناخت تبدیل کرنے کی کوششوں کو رکوائے۔
شامی بحران کا ذکر کرتے ہوئے صدر مرسی کا کہنا تھا کہ دمشق میں اپوزیشن کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے تاکہ وہ اپنی شیزارہ بندی کر کے نئے مصر کی طرز پر جدید شام کی بنیاد رکھ سکیں۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان