مصری صدر نے یہ بات اتوار کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا روانہ ہونے سے قبل نیویارک ٹائمز سے ایک انٹرویو میں کہی ہے۔ صدر مرسی نے کہا کہ ”امریکا کی یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں ٹیکس دہندگان امریکیوں کی رقوم سے خطے کے عوام کی نفرت نہیں تو ناپسندیدگی ضرور خرید کر رہی ہیں”۔
اخبار کے مطابق وہ امریکا کی جانب سے خطے میں آمرانہ حکومتوں اور اسرائیل کی مسلسل حمایت کا حوالہ دے رہے تھے۔ البتہ انھوں نے امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے عرب بہاریہ انقلابات کی بر وقت حمایت کو سراہا اور کہا کہ انھوں نے امریکی عوام کو حاصل حق کی اس خطے کے عوام کے لیے بھی حمایت کر کے اچھا فیصلہ کیا ہے۔
انھوں نے فلسطینیوں کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا جو ابھی تک اپنی ریاست سے محروم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ فلسطینیوں کے حوالے سے امریکا کی ایک خصوصی ذمے داری بنتی ہے کیونکہ امریکا نے بھی 1978ء کے کیمپ ڈیوڈ معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں جس میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کو خالی کر دے تاکہ وہاں فلسطینی اپنی خودمختار حکومت قائم کر سکیں۔
صدر مرسی نے کہا کہ جب تک فلسطینیوں کو امن اور انصاف نہیں ملتا، اس وقت تک یہ معاہدہ نامکمل رہے گا۔جب ان سے نیویارک ٹائمز کے نمائندے نے یہ سوال کیا کہ ”کیا مصر امریکا کا اتحادی ہے؟” تو انھوں نے اخبار کے بہ قول اس کا مبہم جواب دیا اور کہا کہ ”اس کا انحصار آپ کی لفظ ”اتحادی” کی تعریف پر ہے”۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ وہ دونوں ممالک کو حقیقی دوست تصور کرتے ہیں۔
اس انٹرویو میں محمد مرسی نے مصر کی سب سے منظم دینی وسیاسی جماعت اخوان المسلمون سے تعلق کی تصدیق کی اور کہا کہ ”میں اخوان کے ساتھ جوان ہوا ہوں اور اس سے میں نے اصول سیکھے ہیں۔ میں نے یہ سیکھا ہے کہ اپنے ملک سے محبت کیسے کی جاتی ہے۔ اس سے میں نے سیاست سیکھی ہے اور میں اس کا لیڈر رہا ہوں”۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار