خیال رہے کہ حال ہی میں مصر اور مقبوضہ فلسطین کے درمیان جزیرہ نما سیناء نامعلوم مسلح افراد اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپ میں تین حملہ آور اور ایک اسرائیلی فوجی مارا گیا تھا۔
مصری ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے مسلح تنظیم کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے صہیونی فوجیوں پرحملہ یہودیوں کی جانب سے گستاخانہ فلم تیار کرنے میں مدد کے رد عمل میں کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمارے جانثاروں نے سرحد پراسرائیلی فوج کی ایک گشتی پارٹی پر ایک کمین گاہ کے ذریعے حملہ کیا۔ حملے میں اسرائیل نے صرف ایک فوجی کی ہلاکت کا دعوایٰ کیا ہے جو غلط ہے۔ ہمارے جوانوں کے حملے میں آٹھ اسرائیلی فوجی ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے تھے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ انہوں نے دشمن فوج پرحملے کے لیے آر پی جی راکٹوں اور مشین گنوں کا استعمال کیا۔ صہیونی حکومت اپنی شرمندی چھپانے کے لیے مرنے والے فوجیوں کی اصل تعداد ظاہر کرنے سے گریزاں ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کے مجاہدین بین الاقوامی سرحد سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں دخل ہوئے اور سرحد پرعالمی نشان نمبر46 کےقریب یہودی فوجیوں پرالعوجہ گذرگاہ پرحملہ کیا تھا۔ ہماری مجاہدین جمعرات کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں داخل ہوئے اور جمعہ تک وہیں رہے ہیں۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار