شامی فوج نے درعا کے بصری الشام شہر پر گولا باری کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ جنرل انقلاب کونسل نے بھی حلب کے مارع شہر پر لڑاکا جہازوں سے بمباری اور توپخانے سے گولا باری کی اطلاع دی ہے۔ ادھر ترک فوج نے اپنا بھاری اسلحہ اور ساز و سامان شامی سرحدی علاقوں کے قریب منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔ شامی فوج اور باغیوں کی جیش الحر کی ایک سرحدی کراسنگ کے قریب شدید لڑائی کی بھی اطلاعات ہیں۔
درایں اثنا جنرل سیکرٹری بان کی مون اور شام کے لئے یو این اور عرب لیگ کے مشترکہ نمائندے الاخضر الابراھیمی عالمی ادارے کے پیش آئند اجلاس میں شریک ہونے والے عالمی رہنماؤں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اپنے طور پر شام میں انسانی صورتحال میں بہتری اور اس خطرناک بحران کے دیگر ہمسایہ ملکوں پر منفی اثرات روکنے کے لئے اقدام کریں۔
بین کی مون اور الاخضر الابراہیمی کے درمیان ملاقات کے بعد عالمی ادارے کے سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ شام کا بڑھتا ہوا بحران علاقے کے امن و امان کے لئے خطرہ ہے۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید