شامی فوج نے درعا کے بصری الشام شہر پر گولا باری کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ جنرل انقلاب کونسل نے بھی حلب کے مارع شہر پر لڑاکا جہازوں سے بمباری اور توپخانے سے گولا باری کی اطلاع دی ہے۔ ادھر ترک فوج نے اپنا بھاری اسلحہ اور ساز و سامان شامی سرحدی علاقوں کے قریب منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔ شامی فوج اور باغیوں کی جیش الحر کی ایک سرحدی کراسنگ کے قریب شدید لڑائی کی بھی اطلاعات ہیں۔
درایں اثنا جنرل سیکرٹری بان کی مون اور شام کے لئے یو این اور عرب لیگ کے مشترکہ نمائندے الاخضر الابراھیمی عالمی ادارے کے پیش آئند اجلاس میں شریک ہونے والے عالمی رہنماؤں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اپنے طور پر شام میں انسانی صورتحال میں بہتری اور اس خطرناک بحران کے دیگر ہمسایہ ملکوں پر منفی اثرات روکنے کے لئے اقدام کریں۔
بین کی مون اور الاخضر الابراہیمی کے درمیان ملاقات کے بعد عالمی ادارے کے سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ شام کا بڑھتا ہوا بحران علاقے کے امن و امان کے لئے خطرہ ہے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان