شامی فوج نے درعا کے بصری الشام شہر پر گولا باری کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ جنرل انقلاب کونسل نے بھی حلب کے مارع شہر پر لڑاکا جہازوں سے بمباری اور توپخانے سے گولا باری کی اطلاع دی ہے۔ ادھر ترک فوج نے اپنا بھاری اسلحہ اور ساز و سامان شامی سرحدی علاقوں کے قریب منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔ شامی فوج اور باغیوں کی جیش الحر کی ایک سرحدی کراسنگ کے قریب شدید لڑائی کی بھی اطلاعات ہیں۔
درایں اثنا جنرل سیکرٹری بان کی مون اور شام کے لئے یو این اور عرب لیگ کے مشترکہ نمائندے الاخضر الابراھیمی عالمی ادارے کے پیش آئند اجلاس میں شریک ہونے والے عالمی رہنماؤں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اپنے طور پر شام میں انسانی صورتحال میں بہتری اور اس خطرناک بحران کے دیگر ہمسایہ ملکوں پر منفی اثرات روکنے کے لئے اقدام کریں۔
بین کی مون اور الاخضر الابراہیمی کے درمیان ملاقات کے بعد عالمی ادارے کے سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ شام کا بڑھتا ہوا بحران علاقے کے امن و امان کے لئے خطرہ ہے۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار