جواب: اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ معتبر و مستند کتابوں میں کہیں بھی تصریح نہیں ہوئی ہے کہ ایصال ثواب کیلیے خاص مقام یا وقت متعین کیا جاسکتاہے۔ اس لیے ایصال ثواب کیلیے ہمیشہ (اہتمام سے) خاص دن یا جگہ مقرر کرنا بدعت ہے۔ بدعتی نذورات (حلیم، گوشت و۔۔) اگرچہ حلال کھانے ہیں لیکن ان کا استعمال صحیح نہیں ہے۔ یہ سب کچھ اس صورت میں ہے کہ ہم نذر کرنے والے کے بارے مثبت رائے قائم کریں اور اس کا مقصد ایصال ثواب سمجھ لیں؛ لیکن چنانچہ اس کی نیت حاجت پوری کرانا ہو یا کسی بزرگ کی رضامندی، تو یہ ’’و ما اھل بہ لغیراللہ‘‘ کے حکم میں داخل ہے اور ایسے کھانے حرام ہیں۔
دارالافتاء دارالعلوم زاہدان (ایران)
SunniOnline.us
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان