انقلاب کونسل کا کہنا ہے کہ شامی سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں نے ادلب کے جبل الزوایہ کے علاقے سے شہریوں کو گھروں سے نکال کر دھمکایا کہ اگر انہوں نے منحرف فوجیوں کو حکومت کے حوالے نہ کیا تو انہیں قتل کر دیا جائے گا۔
مقامی کوارڈینیشن کمیٹیوں کے مراسلوں میں بھی ایسی ہی صورتحال بیان کی گئی ہے۔ دمشق کے مضافاتی علاقوں الکسوہ، یلدام اور جسر مسرابا سے شدید فائرنگ کی آوازیں آ رہی ہیں۔
دمشق کے مرکز میں بھی احتجاجی مظاہروں میں شدت آتی جا رہی ہے۔ شام کے مختلف علاقوں میں رات کے وقت ہونے والے مظاہروں کا سلسلہ دمشق تک جا پہنچا ہے۔ ان مظاہروں میں بشار الاسد کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔
ادھر سرکاری فوج نے حمص کے الرستن شہر میں سرکاری فوج نے اپنا دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ اب بھی الرستن شہر شدید محاصرے کی حالت میں ہے جہاں ادویہ، کھانے پینے اور ایندھن کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید