انقلاب کونسل کا کہنا ہے کہ شامی سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں نے ادلب کے جبل الزوایہ کے علاقے سے شہریوں کو گھروں سے نکال کر دھمکایا کہ اگر انہوں نے منحرف فوجیوں کو حکومت کے حوالے نہ کیا تو انہیں قتل کر دیا جائے گا۔
مقامی کوارڈینیشن کمیٹیوں کے مراسلوں میں بھی ایسی ہی صورتحال بیان کی گئی ہے۔ دمشق کے مضافاتی علاقوں الکسوہ، یلدام اور جسر مسرابا سے شدید فائرنگ کی آوازیں آ رہی ہیں۔
دمشق کے مرکز میں بھی احتجاجی مظاہروں میں شدت آتی جا رہی ہے۔ شام کے مختلف علاقوں میں رات کے وقت ہونے والے مظاہروں کا سلسلہ دمشق تک جا پہنچا ہے۔ ان مظاہروں میں بشار الاسد کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔
ادھر سرکاری فوج نے حمص کے الرستن شہر میں سرکاری فوج نے اپنا دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ اب بھی الرستن شہر شدید محاصرے کی حالت میں ہے جہاں ادویہ، کھانے پینے اور ایندھن کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان