انقلاب کونسل کا کہنا ہے کہ شامی سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں نے ادلب کے جبل الزوایہ کے علاقے سے شہریوں کو گھروں سے نکال کر دھمکایا کہ اگر انہوں نے منحرف فوجیوں کو حکومت کے حوالے نہ کیا تو انہیں قتل کر دیا جائے گا۔
مقامی کوارڈینیشن کمیٹیوں کے مراسلوں میں بھی ایسی ہی صورتحال بیان کی گئی ہے۔ دمشق کے مضافاتی علاقوں الکسوہ، یلدام اور جسر مسرابا سے شدید فائرنگ کی آوازیں آ رہی ہیں۔
دمشق کے مرکز میں بھی احتجاجی مظاہروں میں شدت آتی جا رہی ہے۔ شام کے مختلف علاقوں میں رات کے وقت ہونے والے مظاہروں کا سلسلہ دمشق تک جا پہنچا ہے۔ ان مظاہروں میں بشار الاسد کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔
ادھر سرکاری فوج نے حمص کے الرستن شہر میں سرکاری فوج نے اپنا دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ اب بھی الرستن شہر شدید محاصرے کی حالت میں ہے جہاں ادویہ، کھانے پینے اور ایندھن کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار