ممتاز سنی عالم دین شیخ امینی پر الزام لگایا گیاہے کہ انہوں نے دوسال قبل دارالعلوم زاہدان کی تقریب ختم بخاری و دستاربندی میں خطاب کرتے ہوئے ایرانی حکومت پر سنی برادری اور لسانی اقلیتوں سے امتیازی سلوک کا الزام عائدکیا ہے۔
ایک سنی ویب پورٹل ’اسلام کرد‘ کی رپورٹ کے مطابق حکومتی عدالت نے سرگرم سنی عالم دین شیخ حسن امینی دامت برکاتہم کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہاہے کہ حکومت پر امتیازی سلوک کی ’تہمت‘ لگانے کے علاوہ آپ ’شورائے منصوبہ بندی برائے دینی مدارس‘ کی مخالفت کررہے ہیں، تہران میں سنی مسلمانوں کو مسجد تعمیر کرنے سے روکا جاتاہے، اس پر احتجاج اور سنی علماء و دانشوروں کی بلاوجہ گرفتاری وعدالت طلبی پر صدائے احتجاج بلند کرنا بھی ان پر عائد الزامات کی فہرست میں شامل ہیں۔
عدالت نے شیخ امینی کو حکم دیاہے کہ اپنے دعووں کا ثبوت عدالت کو اگلی پیشی میں فراہم کرے۔ اس سے قبل بھی انہیں کئی مرتبہ عدالت طلب کیا جاچکاہے۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار