ممتاز سنی عالم دین شیخ امینی پر الزام لگایا گیاہے کہ انہوں نے دوسال قبل دارالعلوم زاہدان کی تقریب ختم بخاری و دستاربندی میں خطاب کرتے ہوئے ایرانی حکومت پر سنی برادری اور لسانی اقلیتوں سے امتیازی سلوک کا الزام عائدکیا ہے۔
ایک سنی ویب پورٹل ’اسلام کرد‘ کی رپورٹ کے مطابق حکومتی عدالت نے سرگرم سنی عالم دین شیخ حسن امینی دامت برکاتہم کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہاہے کہ حکومت پر امتیازی سلوک کی ’تہمت‘ لگانے کے علاوہ آپ ’شورائے منصوبہ بندی برائے دینی مدارس‘ کی مخالفت کررہے ہیں، تہران میں سنی مسلمانوں کو مسجد تعمیر کرنے سے روکا جاتاہے، اس پر احتجاج اور سنی علماء و دانشوروں کی بلاوجہ گرفتاری وعدالت طلبی پر صدائے احتجاج بلند کرنا بھی ان پر عائد الزامات کی فہرست میں شامل ہیں۔
عدالت نے شیخ امینی کو حکم دیاہے کہ اپنے دعووں کا ثبوت عدالت کو اگلی پیشی میں فراہم کرے۔ اس سے قبل بھی انہیں کئی مرتبہ عدالت طلب کیا جاچکاہے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام