دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے چارج ڈی افیئرز رچرڈ ہوگلینڈ کو طلب کر کے بھرپور احتجاج کیا ہے۔
واضح رہے کہ اٹھارہ فروری کو امریکی ایوانِ نمائندگان میں ایک قرارداد جمع کروائی گئی جس میں کہا گیا کہ بلوچ عوام کو اپنے لیے آزاد ملک کا حق حاصل ہے۔
دفترِ خارجہ کے بیان کے مطابق امریکی سفیر کو بتایا گیا کہ امریکی ایوانِ نمائندگان میں پیش کی جانے والی قرار داد دونوں ملکوں کے دوستانہ تعلقات کے منافی ہے۔
بیان کے مطابق امریکی سفیر کو بتایا گیا کہ یہ قرارداد اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ امریکی سفیر سے کہا گیا کہ وہ حکومتِ پاکستان کا احتجاج امریکی انتظامیہ تک پہنچائیں۔
اس قرارداد کے مطابق بلوچی عوام کو تاریخی طور پر حقِ خود ارادیت حاصل ہے۔ قرارداد میں مزید کہا گیا کہ بلوچستان اس وقت پاکستان، ایران اور افغانستان میں بٹا ہوا ہے اور اس بلوچ عوام کو حقوق حاصل نہیں ہیں۔
یہ قرارداد ریپبلکن جماعت کے نمائندے ڈینا روباکر نے جمع کرائی۔ روباکر خارجہ امور کی ذیلی کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔
انہوں نے حال ہی میں امورِ خارجہ کی کمیٹی میں بلوچستان کے معاملے پر عوامی سماعت بھی کروائی تھی اور اس پر بھی پاکستان نے شدید تنقید کی تھی۔
اوباما انتظامیہ نے اس سماعت میں امریکی موقف پیش کرنے کے لیے کسی کو نہیں بھیجا تھا اور کہا تھا کہ بلوچستان پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…