قاہرہ میں عدالت میں دلائل دیتے ہوئے حکومتی وکیل مصطفی سلیمان نے کہا کہ سابق مصری صدر نے سیکڑوں شہریوں کا قتل عام کیا۔ حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران گولی مارنے کا حکم دیا، جس میں پچیس جنوری سے گیارہ فروری کے درمیان صرف اٹھارہ دنوں میں آٹھ سو پچاس افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔
وکیل کا مزید کہنا تھا کہ انسانی جانوں کے ضیاع میں سابق مصری صدر کا ساتھ دینے والے سابق وزیر داخلہ حبیب الایڈلے اور چار اہم سیکورٹی افسران کو بھی کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیئے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام