قاہرہ میں عدالت میں دلائل دیتے ہوئے حکومتی وکیل مصطفی سلیمان نے کہا کہ سابق مصری صدر نے سیکڑوں شہریوں کا قتل عام کیا۔ حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران گولی مارنے کا حکم دیا، جس میں پچیس جنوری سے گیارہ فروری کے درمیان صرف اٹھارہ دنوں میں آٹھ سو پچاس افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔
وکیل کا مزید کہنا تھا کہ انسانی جانوں کے ضیاع میں سابق مصری صدر کا ساتھ دینے والے سابق وزیر داخلہ حبیب الایڈلے اور چار اہم سیکورٹی افسران کو بھی کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیئے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان