قاہرہ میں عدالت میں دلائل دیتے ہوئے حکومتی وکیل مصطفی سلیمان نے کہا کہ سابق مصری صدر نے سیکڑوں شہریوں کا قتل عام کیا۔ حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران گولی مارنے کا حکم دیا، جس میں پچیس جنوری سے گیارہ فروری کے درمیان صرف اٹھارہ دنوں میں آٹھ سو پچاس افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔
وکیل کا مزید کہنا تھا کہ انسانی جانوں کے ضیاع میں سابق مصری صدر کا ساتھ دینے والے سابق وزیر داخلہ حبیب الایڈلے اور چار اہم سیکورٹی افسران کو بھی کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیئے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید