واشنگٹن میں اوباما انتظامیہ کے عہدیدار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کیے جانے والے ڈرون حملے بے سود تھے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں کی پروازیں اب بھی جاری ہیں لیکن فی الوقت کسی ہدف کو نشانہ نہیں بنایا جارہا۔
علاوہ ازیں ایک امریکی اخبار کے مطابق ڈرون حملے روکے جانے کی ایک وجہ خراب موسم بھی ہوسکتے ہیں اور ممکنہ طور پر سی آئی اے نئے ٹارگٹ کی تلاش میں مصروف ہوسکتی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کی 26تاریخ کو مہمند ایجنسی میں واقعہ سلالہ چیک پوسٹ پر مسلسل 2 گھنٹے تک کیے جانے والے ناٹو حملے میں پاک فوج کے میجر اور کیپٹن سمیت اہلکار ہلاک ہوگئے تھے جس پر پاکستان کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔
پاکستان نے فوجی جوانوں کی ہلاکت پر ناٹو سپلائی لائن بند کردی جو کہ تاحال بحال نہیں ہوسکی جب کہ مغربی صوبے بلوچستان میں واقع شمسی ایئربیس بھی امریکی اہلکاروں سے خالی کرالیا گیا۔
افغانستان کے لیے ناٹو رسد کی بندش کے بعد امریکی انتظامیہ کو اپنے فوجیوں کی خوراک اور ایندھن کی فراہمی سے متعلق فکر لاحق ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…