یمن کے دارالحکومت صنعاء میں ہزاروں مظاہرین نے صدر صالح اور ان کے قریبی ساتھیوں کو استثنیٰ دینے پر شدید احتجاج کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر اور ان کے ساتھی شہریوں کے قتل عام میں ملوث ہیں اور ان پر مقدمہ چلایا جائے۔ یمنی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے فائرنگ کردی اور واٹر کینن اور آنسو گیس کے شیل بھی داغے۔
اسپتال ذرائع کے مطابق فائرنگ سے 9 افراد ہلاک اور 90 زخمی ہوئے۔ مظاہرین پر تشدد کے چند گھنٹے بعد صدر علی عبداللہ صالح نے اعلان کیا کہ وہ امریکا چلے جائیں گے۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کب روانہ ہوں گے تاہم انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ یمن میں دوبارہ سیاسی کردار ادا کریں گے۔
علی عبداللہ صالح گذشتہ ماہ اختیارات اپنے نائب صدر منصور ہادی کو سونپ چکے ہیں۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…