دمشق میں حماس کے دفترسے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ “ہم نے اس سے قبل بھی کوششیں کی ہیں اورآئندہ بھی بحران کے پرامن حل کے لیے کوششیں کرتے رہیں گے۔ حماس سمجھتی ہے کہ شام کا بحران خطرناک اور پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ بحران کا واحد حل سیاسی جماعتوں اور حکومت کے درمیان مذاکرات ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کے جائز جمہوری مطالبات پورے کرنے میں کسی تاخیرسے کام نہ لے اور جلد از جلد جمہوری اور سیاسی اصلاحات کا نفاذ کرے۔
بیان میں کہا گیا کہ ہم شام میں امن واستحکام کے حق میں ہیں کیونکہ شام میں عدم استحکام کا فائدہ ہمارے مشترکہ دشمنوں کو ہو گا۔
حماس نے تمام شامی سیاسی جماعتوں اور انقلابی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ حکومت کے ساتھ بامقصد مذاکرات کی کوشش کریں۔ اس کے ساتھ حماس نے صدر بشارالاسد کی حکومت پر زور دیا کہ وہ بحران کےحل کے طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی جماعتوں سے مذاکرات اور بات چیت کا عمل شروع کرے۔ شام میں ریاستی فورسز کے ہاتھوں قتل عام سے بیرونی مداخلت کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ شام کی تمام سیاسی قوتوں کو بیرونی مداخلت کی راہ بند کرنا ہو گی۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…