دمشق میں حماس کے دفترسے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ “ہم نے اس سے قبل بھی کوششیں کی ہیں اورآئندہ بھی بحران کے پرامن حل کے لیے کوششیں کرتے رہیں گے۔ حماس سمجھتی ہے کہ شام کا بحران خطرناک اور پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ بحران کا واحد حل سیاسی جماعتوں اور حکومت کے درمیان مذاکرات ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کے جائز جمہوری مطالبات پورے کرنے میں کسی تاخیرسے کام نہ لے اور جلد از جلد جمہوری اور سیاسی اصلاحات کا نفاذ کرے۔
بیان میں کہا گیا کہ ہم شام میں امن واستحکام کے حق میں ہیں کیونکہ شام میں عدم استحکام کا فائدہ ہمارے مشترکہ دشمنوں کو ہو گا۔
حماس نے تمام شامی سیاسی جماعتوں اور انقلابی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ حکومت کے ساتھ بامقصد مذاکرات کی کوشش کریں۔ اس کے ساتھ حماس نے صدر بشارالاسد کی حکومت پر زور دیا کہ وہ بحران کےحل کے طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی جماعتوں سے مذاکرات اور بات چیت کا عمل شروع کرے۔ شام میں ریاستی فورسز کے ہاتھوں قتل عام سے بیرونی مداخلت کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ شام کی تمام سیاسی قوتوں کو بیرونی مداخلت کی راہ بند کرنا ہو گی۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان