دمشق میں حماس کے دفترسے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ “ہم نے اس سے قبل بھی کوششیں کی ہیں اورآئندہ بھی بحران کے پرامن حل کے لیے کوششیں کرتے رہیں گے۔ حماس سمجھتی ہے کہ شام کا بحران خطرناک اور پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ بحران کا واحد حل سیاسی جماعتوں اور حکومت کے درمیان مذاکرات ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کے جائز جمہوری مطالبات پورے کرنے میں کسی تاخیرسے کام نہ لے اور جلد از جلد جمہوری اور سیاسی اصلاحات کا نفاذ کرے۔
بیان میں کہا گیا کہ ہم شام میں امن واستحکام کے حق میں ہیں کیونکہ شام میں عدم استحکام کا فائدہ ہمارے مشترکہ دشمنوں کو ہو گا۔
حماس نے تمام شامی سیاسی جماعتوں اور انقلابی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ حکومت کے ساتھ بامقصد مذاکرات کی کوشش کریں۔ اس کے ساتھ حماس نے صدر بشارالاسد کی حکومت پر زور دیا کہ وہ بحران کےحل کے طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی جماعتوں سے مذاکرات اور بات چیت کا عمل شروع کرے۔ شام میں ریاستی فورسز کے ہاتھوں قتل عام سے بیرونی مداخلت کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ شام کی تمام سیاسی قوتوں کو بیرونی مداخلت کی راہ بند کرنا ہو گی۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…