ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عالم دین علامہ عوض القرنی نے حال ہی میں سماجی رابطے کی ویب سائیٹ “فیس بُک” کے اپنے خصوصی صفحے پر فلسطینیوں کو یہ پیشکش کی تھی کہ وہ اسرائیلی فوجیوں کواغواء کریں۔ ایک فوجی کے اغواء کے بدلے میں وہ ایک لاکھ ڈالرز انعام دیں گے۔ شیخ عوض نے یہ اعلان اس وقت کیا جب سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر انتہا پسند یہودی آباد کاروں کی طرف سے گذشتہ ہفتے حماس اور اسرائیل کے درمیان ایک ڈیل کے تحت رہائی پانے والے فلسطینیوں کےخلاف ایک شرانگیز مہم دیکھی گئی۔
اس مہم کے تحت انتہا پسند یہودیوں کی جانب سے یہ ترغیب دی گئی تھی کہ رہائی پانے والے کسی ایک فلسطینی کے قتل کے بدلےمیں قاتل کو ایک لاکھ ڈالرانعام دیا جائے گا۔
شیخ عوض القرنی کے خصوصی صفحے پر ان کی پیشکش کو ملاحظہ کیا ہے۔ بُدھ کی شام تک ان کی اس پیشکش کو بڑے پیمانے پرعوامی سطح پر سراہا گیا ہے۔ اب تک کم و بیش کوئی دو ہزار افراد نے شیخ القرنی کی اس پیشکش کی تائید کی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کی ایک نیوز ویب سائیٹ”وائی نیٹ” پر شیخ عوض القرنی کی خبر پر کیے گئے تبصروں میں انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ان میں انہیں جان سے مار ڈالنے جیسی دھمکیاں بھی شامل ہیں۔
ایک اسرائیلی تبصرہ نگار نے شیخ القرنی کی پیشکش پر ان الفاظ میں تبصرہ کیا ہے” شیخ صاحب! اس پیشکش کے بعد آپکا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکا۔ میں آپ کو خبردارکرتا ہوں کہ آپ کا انجام بہت قریب ہے۔ بعید نہیں کہ آپ کسی کار میں سوارہوں لیکن آپ اس سے زندہ نہ اتر سکیں۔ آپکو انجام سے دوچار کرنے میں طویل عرصہ نہیں بس زیادہ سے زیادہ چھ ماہ درکار ہیں۔ اگر ہمارا خفیہ ادارہ موساد آپ کو چھ ماہ میں ٹھکانے نہ لگا دے تو وہ لعنت اور پھٹکار کے قابل ہے۔ اب جوبھی ہوگا موساد آپ کے حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کرے گا”۔
ایک اور صاحب خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے عربوں کو یوں مخاطب کرتے ہیں” شیخ قرنی کو ٹھکانے لگانے کے لیے دس لاکھ ڈالرز کوئی بڑی رقم نہیں، وہ کوئی بھی ادا کر دے گا، لیکن میں ان عربوں سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں جوصرف ٹی وی اسکرینوں پر ہیرو بنے پھرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ میدان میں جنگ کے لیے کیوں نہیں اترتے؟ سچی بات یہ ہے آپ میں ہمارا مقابلہ کرنے کی جرات اور ہمت ہی نہیں کیونکہ آپ ہی تو وہ لوگ ہیں جو گذشتہ 120 سال سے ہم سے شکست پہ شکست کھا رہے ہیں”۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…