نیویارک کی وال اسٹریٹ سرمایہ دارانہ نظام کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ایک مہینے قبل جب امریکا میں بے روزگاری، عدم مساوات اور غربت کے شکار افراد نے ”وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو“کے نام سے احتجاجی تحریک کا آغاز کیا تو کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ احتجاج بارش کی پہلی بوند بن کردنیا بھر کے عوام کو سرمایہ دارانہ نظام کی ناانصافیوں کے خلاف اٹھ کھڑاہونے کا حوصلہ دے گی۔
امریکا ،کینیڈا ، برطانیہ،اٹلی،جرمنی،اسپین،بیلجیم،آسٹریلیا،نیوزی لینڈ،جاپان،ہانگ کانگ،جنوبی کوریا اور تائیوان سمیت مختلف یورپی اور ایشیائی ممالک میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔نیویارک کے ٹائمز اسکوائر پر احتجاج کرنے والے 80 سے زائدافراد کو گرفتار کر لیا گیا۔شکاگو اور منی پولس سے بھی متعدد افرادکو گرفتار کیا گیا ہے۔
برطانیہ میں مظاہرین نے لندن اسٹاک ایکسچینج کے قریب سینٹ پال کیتھڈرل کے باہر پڑاوٴ ڈال لیا ہے۔مظاہرین نے اس علاقے کو مصر کی تحریک سے متاثر ہو کر تحریر اسکوائر کا نام دیا ہے۔ہالینڈ کے شہر ایمسٹر ڈیم اور جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں بھی مظاہرین نے معاشی مراکز کے سامنے خیمے ڈال لیے ہیں۔
اٹلی کے دارالحکومت روم میں ہونے والے مظاہرے ہنگاموں کی صورت اختیار کرگئے۔متعدد گاڑیاں جلادی گئیں،دکانوں کو لوٹ لیا گیا۔ہنگاموں میں 100سے زائد افراد زخمی ہوئے۔پولیس نے 20 افراد کو حراست میں لے لیا۔کینیڈا میں مونٹریال، ٹورنٹو،اوٹاوا سمیت مختلف شہروں میں احتجاج جاری ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام،غربت،بے روزگاری اور دولت کی غیرمنصافانہ تقسیم کے خلاف احتجاج کرنے والے انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا بھر میں عوام کو اس تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دے رہے ہیں۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…