بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس یا آئی سی آر سی کی ایک امدادی ٹیم نے سرت شہر کے ایک ہسپتال میں زخمی افراد کو طبی امداد پہنچائی ہے۔
لیبیا کی عبوری حکومت نے جمعہ کو دو دن کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا تاکہ شہر سے عام شہری نکل سکیں لیکن آئی سی آر سی کا کہنا ہے کہ شہر میں شدید لڑائی جاری ہے۔
آئی سی آر سی کا کہنا ہے کہ ان کی امدادی ٹیم کو فریقین کی جانب سے سکیورٹی کلیئرنس ملی تھی جس کے بعد انھوں نے مختلف چیک پوسٹیں عبور کرنے کے بعد سیما ہسپتال کا دورہ کیا۔
’ہسپتال میں مریضوں کی ایک بڑی تعداد آ رہی تھی اور وہاں پر ادویات کی ترسیل ختم ہوتی جا رہی ہے، آکسیجن کی اشد ضرورت ہے اور پانی کا ذخیرہ متاثر ہوا ہے۔‘
تاہم ٹیم مختلف وارڈز میں زیراعلاج زخمیوں کے پاس نہیں جا سکی ہے کیونکہ ہسپتال لڑائی کی زد میں تھا۔
امدادی ٹیم کے سربراہ نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’جب وہ ہسپتال میں موجود تھے تو اس وقت کئی راکٹ وہاں گرے۔‘
ہسپتال کے عملے نے آئی سی آر سی کو بتایا کہ’ آکسیجن اور جنریٹرز میں تیل نہ ہونے کے سبب لوگ مر رہے ہیں۔‘
لیبیا کی عبوری حکومت کے جنگجوؤں نے کئی ہفتے پہلے سرت پر حملہ کیا تھا تاہم وہاں موجود کرنل قذافی کی حامی فوج کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔
جمعہ کو عبوری حکومت نے جنگجوؤں نے شہر کے ہوائی اڈے پر قبضہ کر لیا تھا اور اب شہر میں مشرقی اور مغربی سمت سے داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ لیبیا میں بنی ولید اور سرت دو بڑے شہر ہیں جہاں پر کرنل قذافی کی حامی فوج کا کنٹرول اب تک برقرار ہے۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید