ترکی کے دارالحکومت اسنتبول میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو بحرہ روم پر اجارہ داری قائم کرنے نہیں دیں گے۔
طیب ایردوغان کے مطابق مقبوضہ فلسطین کے شہر غزہ جانے والی کسی بھی امدادی کشتی کے ساتھ ترکی کے جنگی جہاز بھی جائیں گے۔
قبل ازیں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اس وقت ترکی کے ساتھ تعلقات سنگین ہیں،استبول سے خراب تعلقات ہمارا انتخاب نہیں اور نہ ہی اسرائیل ایسا چاہتا تھا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے شمالی حیفا میں اسرائیلی بحریہ کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ترکی کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے تھے تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے ترکی کے جہاز فریڈم فلو ٹیلا پر اسرائیل کے حملے کی تعریف بھی کی۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید