ترکی کے دارالحکومت اسنتبول میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو بحرہ روم پر اجارہ داری قائم کرنے نہیں دیں گے۔
طیب ایردوغان کے مطابق مقبوضہ فلسطین کے شہر غزہ جانے والی کسی بھی امدادی کشتی کے ساتھ ترکی کے جنگی جہاز بھی جائیں گے۔
قبل ازیں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اس وقت ترکی کے ساتھ تعلقات سنگین ہیں،استبول سے خراب تعلقات ہمارا انتخاب نہیں اور نہ ہی اسرائیل ایسا چاہتا تھا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے شمالی حیفا میں اسرائیلی بحریہ کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ترکی کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے تھے تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے ترکی کے جہاز فریڈم فلو ٹیلا پر اسرائیل کے حملے کی تعریف بھی کی۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار