ترکی کے دارالحکومت اسنتبول میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو بحرہ روم پر اجارہ داری قائم کرنے نہیں دیں گے۔
طیب ایردوغان کے مطابق مقبوضہ فلسطین کے شہر غزہ جانے والی کسی بھی امدادی کشتی کے ساتھ ترکی کے جنگی جہاز بھی جائیں گے۔
قبل ازیں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اس وقت ترکی کے ساتھ تعلقات سنگین ہیں،استبول سے خراب تعلقات ہمارا انتخاب نہیں اور نہ ہی اسرائیل ایسا چاہتا تھا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے شمالی حیفا میں اسرائیلی بحریہ کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ترکی کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے تھے تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے ترکی کے جہاز فریڈم فلو ٹیلا پر اسرائیل کے حملے کی تعریف بھی کی۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان