واضح رہے کہ گذشتہ روز شامی سکیورٹی فورسز نے دمشق اور دوسرے شہروں میں حکومت مخالف مظاہرین پر فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں بتیس افراد مارے گئے تھے۔ان میں سے سولہ دارالحکومت دمشق میں مارے گئے تھے۔ صرف دوشہروں حماہ اور دیرالزور میں دس لاکھ سے زیادہ افراد نے صدر بشارالاسد کے خلاف ریلیوں میں شرکت کی تھی۔
استنبول کے ایک کانفرنس ہال میں منعقدہ حزب اختلاف کے لیڈروں کے اجلاس کو قومی تحفظ کانگریس کا نام دیا گیا ہے۔اجلاس سے قبل ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور شام کا قومی ترانہ بجایا۔منتظمین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ”کانگریس ملک میں آمریت سے جمہوریت کے قیام کے لیے ایک نقشہ راہ کی منظوری دے گی۔شرکاء مختلف ممالک سے آئے ہیں اور ان کا مختلف اپوزیشن گروپوں سے تعلق ہے”۔
ھیثم مالح نے بتایا کہ ”ہمارے پاس مستقبل میں شام میں تبدیلی ، آزادی اور جمہوریت کے حوالےسے ایک دستاویز ہے۔ہم یہ دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ آیا اس دستاویز پر کسی کو کوئی اعتراض تونہیں اور پھر ان اعتراضات کو دورکرنے کی کوشش کی جائے گی۔ہم پندرہ افراد پر مشتمل ایک گروپ تشکیل دیں گے جو ملک سے باہر اپنا کام جاری رکھیں گے اور اندرون ملک بھی اپنے حامیوں سے روابط استوار کریں گے”۔انھوں نے بڑے پُراعتماد انداز میں کہا کہ صدر بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ اب ہفتوں کی بات ہے۔ان شاء اللہ ملک میں جمہوریت آرہی ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید