ان لاشوں کو شناخت کے لیے بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال پہنچایا گیا جہاں تین کی شناحت ہوگئی ہے۔
ہلاک ہونے والوں میں ناصر بادینی کا تعلق نوشکی، مقصود قلندرانی کا تعلق خضدار کے علاقے توتک اور مرتضی سرپرہ کا تعلق مستونگ کے علاقے کانک سے بتایاگیا ہے جبکہ ایک لاش کی فوری طور پر شناخت نہیں ہوسکی۔
لاپتہ افراد کے لواحقین کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے نائب صدر ماما قدیر بلوچ کے مطابق گزشتہ سال جولائی سے لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ شروع ہواتھا اور اب تک دو سو سے زیادہ لاپتہ بلوچ کی مسخ شدہ لاشیں مل چکی ہیں۔
واضح رہے کہ وزیرِاعظم سید یوسف رضا گیلانی نے حال ہی میں بلوچستان کے دورے کے موقع پر کوئٹہ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بلوچستان میں لاپتہ بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں ملنے پر تشویش کا اظہار کیاتھا اور کہا تھا کہ لاپتہ افراد کو منظرِعام پرلانے کے لیےحکومت نے ایک کمیشن قائم کیا ہے۔
اس سے پہلے وزیراغطم نے نومبر سنہ دوہزار نو میں قومی اسمبلی میں آغازِحقوق بلوچستان پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ تمام لاپتہ افراد بہت جلد اپنے گھروں کو پہنچ جائیں گے۔
دوسری جانب بلوچ قوم پرستوں کا کہناہے کہ لاپتہ افراد اب تک اپنے گھروں کو نہیں پہنچ پائے تاہم ان کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…