Categories: عالم اسلام

الزاویہ پر قذافی فوج کا دوبارہ قبضہ، انقلابی لیڈر کی نیٹو پر تنقید

دبئی(العربیہ)لیبی فوج نے انقلابیوں کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد دارلحکومت طرابلس کے مغرب میں 50 کلومیٹر دور ساحلی شہر الزاویہ کا کنڑول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔
معمر قذافی کی فوج کا زاویہ شہر پر دوبارہ کنٹرول کے دعوے کو درست ثابت کرنے کے لئے لیبی حکام نے صحافیوں کی ٹیم کو شہر کا دورہ کرایا۔ دورہ کرنے والے صحافیوں نے بتایا کہ شہر پر دوبارہ قبضے کے لئے کئی ہفتے جاری رہنے والی لڑائی میں الزاویہ کا تمام بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو کر رہ گیا۔

شہر پر لیبی فوج کے دوبارہ قبضے کی خوشی میں کرنل قذافی کے چند حامی اپنے ہاتھوں میں پرچم اٹھائے شہر کے مرکزی گراؤنڈ میں نعرے لگا رہے تھے۔ یاد رہے کہ الزاویہ شہر پر حکومت مخالف انقلابیوں کا کنٹرول تھا لیکن قذافی فوج کے حملوں کے بعد وہ اس کامیابی کو سنبھال نہیں سکے۔
لیبیا کے مشرقی علاقوں بالخصوص تیل کی دولت سے مالا مال شہر البریقہ کے گرد و نواح سے انقلابیوں اور قذافی فوج کے درمیان لڑائی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ سرکاری فوج کی گولا باری کی وجہ سے انقلابیوں کی اس شہر کی جانب پیش قدمی رک گئی ہے۔
ادھر بن غازی میں سابق وزیر داخلہ اور انقلابی رہ نما عبد الفتاح یونس نے مصراتہ شہر میں عام شہریوں کو تحفظ کرنے میں ناکامی پر نیٹو کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ مصراتہ پر قذافی فوج مسلسل گولا باری کر رہی ہے جس سے شہر میں عام شہریوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ نیٹو اس صورتحال میں خاموشی تماشائی بنی ہوئی ہے۔
درایں اثنا خصوصی امریکی مندوب کرس اسٹیونز باغیوں سے مذاکرات کے لیے باغیوں کے زیرِ قبضہ لیبیا کے مشرقی حصّے بن غازی پہنچ گئے ہیں۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق اسٹیونز کے دورے کا مقصد لیبیا میں جاری لڑائی کی وجہ سے پیدا ہونے والے انسانی بحران کی روک تھام کے حوالے سے بات چیت کرنا ہے۔
دوسری جانب صدر اوباما کی انتظامیہ، لیبیا کے حوالے سے ایک مشکل صورتِ حال سے دوچار ہے اور اسے اس بات کا فیصلہ کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے کہ لیبیا میں باغیوں کی کس طریقے سے امداد کی جا سکے۔ واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کے مینڈیٹ کے مطابق نیٹو افواج لیبیا پر زمینی کارروائی نہیں کر سکتی ہیں۔ نیٹو کی فضائی کارروائی کے نتیجے میں قذافی کی عسکری قوّت کمزور ضرور پڑی ہے لیکن باغی اب تک قذافی کے زیرِ قبضہ علاقوں کا کنٹرول سنبھالنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔
قبل ازیں امریکی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ امریکی فضائیہ نے لیبیا میں اپنی کارروائیاں ختم کر دی ہیں۔ پینٹا گون کے مطابق ان کی فورسز نے پیر کو بھی لیبیا میں فضائی کارروائی جاری رکھی تھی تاہم اب امریکی جنگی طیارے ایسی کسی کارروائی میں حصہ نہیں لیں گے اور تمام تر آپریشنز مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی زیر نگرانی ہوں گے۔
modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago