خطبہ جمعے کے پہلے حصے میں قرآنی آیت: “الَّذِينَ آَمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ” کی تلاوت کے بعد خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا اللہ تعالی نے دنیا وآخرت میں امن کے اسباب کو بیان فرمایاہے۔ کون امن سے رہے گا اور کون سکون سے محروم؟ اللہ تعالی نے یہ سب واضح کردیاہے۔
انہوں نے مزیدکہا جب آدم وحوا نے شجرہ ممنوعہ سے کھالیا اور جنت سے زمین پر منتقل کرائے گئے تو اللہ تعالی نے واضح فرمایا کہ معصیت و نافرمانی امن وراحت کا دشمن ہے، جیسا کہ آدم علیہ السلام ایک خطا کی وجہ سے جنت (جو ’آمنۃ مطمئنۃ‘ پرامن اور پرسکون مقام ہے) سے زمین پر آگرے جو مسائل ومصائب کا گڑھ ہے۔ یہ پیغام ہے اولاد آدم کو کہ اگر امن وسکون چاہتے ہو تو اللہ اور اس کے انبیاء کی اطاعت کیاکرو۔
انہوں نے مزید کہا کہ ظلم کی کئی اقسام ہیں، سب سے بڑا ظلم ’’شرک‘‘ ہے۔ اپنے آپ کو مارنا پیٹنا اور قتل کرنا بھی ظلم ہے لیکن قرآن نے شرک کو سب سے بڑا ظلم قرار دیاہے جس سے سخت اجتناب کرنا چاہیے، کفر وشرک دنیا وآخرت میں مصائب و مشکلات کی جڑ ہیں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے حاضرین کو توبہ و رجوع الی اللہ کی ترغیب دیتے ہوئے کہا جو شخص ظلم کے ارتکاب کرچکاہے اسے توبہ کرنی چاہیے، حق چاہے اللہ کا ہو یا اس کے بندوں کا اس پر توبہ کی ضرورت ہے۔ حقوق العباد سے توبہ مال واپس لوٹانے اور معافی مانگنے پر بھی مشروط ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا عذاب خداوندی کفار کیساتھ خاص نہیں ہے، جب گناہ و معصیت عام ہوجائے تو مسلمان بھی اس کی لپیٹ میں آتے ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے تاکید کی آج کل قدرتی آفات عام ہوچکی ہیں، ہر جگہ زلزلے اور سیلاب جیسی آفتوں سے بچاؤ کیلیے عمارتوں کو زیادہ سے زیادہ مضبوط تعمیر کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں، یہ اچھی بات ہے لیکن قدرتی آفات اور آسمانی عذاب سے بچنے کیلیے اس کے علاوہ ایک اور بات بھی یقینی بنانی چاہیے اور وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل اطاعت نیز گناہوں سے اجتناب ہے۔ اگر ہم نے عمارتیں زبردست مضبوط بنائی مگر گناہوں سے دوری اختیار نہیں کی اور طاعۃ اللہ والرسول سے غافل رہے پھر ان بلند وبالا بلڈنگز کا انہدام اللہ تعالی کیلیے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام