Categories: افغانستان

ربانی افغان امن کونسل کے سربراہ ہوں گے

کابل(العربیہ) افغان صدرحامد کرزئی نے مذاکرات پر آمادہ جنگور گروپوں اور طالبان سے امن مذاکرات کے لیے سابق صدر پروفیسر برھان الدین ربانی کو سپریم امن کونسل کا چیئرمین مقرر کیا ہے۔ سابق افغان صدر طالبان سمیت دیگر جنگجو گروپوں سے رابطے کریں گے اور بات چیت پر آمادہ اہم رہ نُماٶں کو افغان حکومت سے مذاکرات پر آمادہ کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق سابق افغان صدر برھان الدین ربانی کویہ ذمہ داری کے بیک وقت کرزئی حکومت، طالبان اور تاجک گروپوں کے ساتھ روابط کی وجہ سے سونپی گئی ہے۔ مذہبی شناخت رکھنے والے پروفیسر برھان الدین ربانی کے ماضی میں تاجک اور طالبان کے ساتھ روابط رہے ہیں۔ بالخصوص ان کے طالبان میں شامل اہم لیڈروں سے رابطے رہے ہیں کہ جو افغان حکومت کےبارے میں نرم گوشہ رکھنے کے ساتھ ساتھ حکومت سے بات چیت کی طرف بھی مائل ہیں۔
افغانستان پر سوویت یونین کے قبضے کے دوران خود استاد ربانی ایک مضبوط عسکری تنظیم کے سربراہ رہ چکے ہیں اور سوویت یونین کے خلاف جنگ میں انہوں نے بنفس نفیس حصہ لیا۔
سنہ 80ء کی دھائی میں انہوں نے افغانستان میں صدارت کا عہدہ سنھبالا جبکہ نوے کی دھائی میں جنگجوٶں کی باہمی کشمکش اور خانہ جنگی میں وہ حکومت سے الگ ہو گئے تھے۔ کئی سال تک جاری رہنے والی یہ خانہ جنگی بالآخر ملک میں طالبان حکومت کے قیام پر منتج ہوئی تھی۔
سنہ 2001ء میں امریکا کے افغانستان پر حملے اور طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد برھان الدین ربانی ایک بار پھر ملک کے سیاسی افق پر نمایاں ہوئے۔ انہوں نے تمام گروہوں کو باہم متحد کرنے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
گذشتہ جون میں افغان صدر حامد کرزئی نے ایک قبائلی جرگے میں سپریم امن کونسل کی تجویز پر اتفاق کیا۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق صدر کرزئی نے باہمی مشاورت سے 68 اہم شخصیات پرمشتمل یہ کونسل تشکیل دی ہے جس کا سربراہ سابق افغان صدر برھان الدین ربانی کو مقرر کیا گیا ہے۔
ادھراتوار کو کابل میں افغان صدرکے سیکرٹیریٹ سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ صدر کرزئی کی تشکیل کردہ کونسل کے لیے سابق صدر برھان الدین ربانی کو چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ پروفیسر ربانی کو یہ ذمہ داری صدر کرزئی نے اپنی منشا کے مطابق سونپی ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق افغان صدر جنگجو گروپوں سے مذاکرات کا عمل شروع کرنے اور ان سے امن بات چیت کے لیے ایسا میکنزم تیار کریں گے جو ایک طرف افغان حکومت کے لیے قابل قبول ہو اور دوسری طرف عسکری گروپوں کو بھی مذاکرات پر آمادہ کرنے میں معاون ثابت ہو۔ کوشش یہ کی جائے گی کہ اڑسٹھ رکنی سپریم امن کونسل کے تمام ارکان پروفیسر ربانی کےتیار کردہ امن فارمولے سےمتفق ہوں۔
خیال رہے کہ افغانستان میں ایک عشرے پر محیط امریکی جنگ ایک ایسے مقام پر پہنچ چکی جہاں ملک کے اندر اور خود جنگ میں امریکی اتحادیوں میں یہ احساس تقویت پکڑ رہا ہے کہ افغانستان میں تمام جنگجو گروپوں سے بات چیت ہی قیام کا واحد راستہ ہے۔
modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago