اس جمعے کے خطبے کا آغاز سورۃ البقرۃ کی بعض آیات کی تلاوت سے کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے موسم حج کی جانب اشارہ کرکے فرمایا حج اسلام کے اہم ترین ارکان میں سے ہے۔ تلاوت شدہ آیت سے معلوم ہوتا ہے کعبہ دنیا کا قدیم ترین مکان ہے اور تاریخ کی عظیم ترین عمارت ہے۔ اس کی تعمیر بھی دو بے مثال معماروں کے دست مبارک سے ہوئی ہے۔
کعبہ کی بنیاد اور پہلی مرتبہ تعمیر تاریخی روایات کے مطابق سب سے پہلے ملائکہ نے کیا جو خلق آدم سے بھی قبل تھا۔ اس عمل سے یہ بات ثابت ہوئی کہ دنیا کی خلقت کا مقصد اللہ تعالی کی عبادت ہے۔ اس کے بعد آدم علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر کی تا کہ یہاں خالق کی عبادت کی جاسکے۔ طوفان نوح کے بعد اللہ تعالی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس علاقے کی طرف ہجرت کا حکم دیا۔ آپ اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ یہاں تشریف لائے اور جب اسماعیل علیہ السلام بڑے ہوگئے تو اللہ تعالی نے انہیں کعبہ کی تعمیر کا حکم دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا بیت اللہ کا حج اسلام سے قبل اور اس کے بعد ہوتا چلا آرہاہے۔ اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم کو حج کرنے کے لیے اعلان کا حکم دیا اور رب نے اعلان سب تک پہنچا دیا ہے۔ آپ علیہ السلام نے اس مقام کے لیے دعائیں کیں اور رب العالمین نے ساری دعائیں قبول فرمالیں۔
کعبہ کا بہترین حج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا جو پوری تاریخ کا بے مثال ترین حج تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پہلا اور آخری حج تھا۔
بیان کے آخر میں جامع مسجد مکی کے تعمیر نو منصوبے کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے حاضرین سے کہا یہ مسجد بھی اللہ تعالی کا گھر ہے۔ اس کی تعمیر بھی دعا اور تواضع کے ساتھ ہونی چاہیے۔
اہل خیر حضرات اس عظیم مسجد کی تعمیر میں اپنا حصہ ضرور ڈالیں۔ یہ میری یا بعض علماء کی مسجد نہیں یہ آپ سب کی ہے۔ یہ مسجد تمام مسلمانوں کی ہے، اس لیے سب اپنا حصہ اس کی تعمیر میں ڈالیں۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام