”ہم بے گناہ”
امریکیوں نے عدالت میں پیشی کے موقع پولیس کی وین سے ایک ٹشو پیپر صحافیوں کی جانب پھینکا جس میں انہوں نے لکھا تھا:”ہماری گرفتاری کے بعد سے امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی اور پاکستانی پولیس کے اہلکار ہمیں تشدد کانشانہ بنا رہے ہیں.
انہوں نے مزید لکھا کہ ”وہ ہمیں ملزم ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہم بے گناہ ہیں. وہ ہمیں میڈیا، ہمارے خاندانوں اور ہمارے وکیل سے بھی چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں، اس لئے ہماری مدد کیجئے”.
ان پانچوں امریکیوں کو دسمبر میں القاعدہ سے وابستہ گروپوں سے تعلق کے الزام میں سرگودھا سے گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں ان پر دہشت گردی کے حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام عاید کیا گیا تھا. ان پانچوں افراد کی عمریں انیس سے پچیس سال کے درمیان ہیں اور ان کا ورجینیا سے تعلق ہے.
ان میں سے دو پاکستانی نژاد امریکی شہری ہیں. ایک مصری، ایک یمنی اور ایک اری ٹیرین نژاد امریکی ہے.اگر وہ عدالت میں مجرم ثابت ہو گئے تو انہیں لمبی قید کا سامنا ہو سکتا ہے.
سرگودھا جیل کے سپرنٹنڈینٹ انجم شاہ نے امریکیوں کے خود سے ناروا سلوک کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ان مشتبہ افراد نے جیل حکام سے ناروا سلوک کی کوئی شکایت نہیں کی. انہوں نے کہا کہ ان ملزمان پر جیل میں کوئی تشدد نہیں کیا جا رہا بلکہ ہم ان کے ساتھ قواعد وضوابط کے مطابق سلوک کر رہے ہیں.
اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے ترجمان رک سنلسئیر نے ایک بیان میں ملزمان کی جانب سے ایف بی آئی پر تشدد کرنے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں قونصلر کی رسائی اور خدمات بھی مہیا کی گئی ہیں.
پاکستانی پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کے ای میل پیغامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے طالبان سے رابطہ کیا تھا اور جنگجو گروپ نے انہیں پاکستان میں حملوں کے لئے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی.
وکیل صفائی نے تئیس سالہ مصری نژاد امریکی رامی زم زم کا ایک خط بھی صحافیوں میں تقسیم کیا ہے جو انہوں نے اپنے والدین کے نام لکھا ہے.اس میں انہوں نے بیان کیا ہے کہ ”پیارے اماں اور ابا.صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسے اور دعا کا سلسلہ جاری رکھیں.ہمیں گرفتاری کے بعد سے تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے”.
”آپ ہم سے براہ راست رابطے کے لئے کوششیں جاری رکھئے اور ہم سے ذاتی طور پر بات کرنے کی کوشش کیجئے.میں آپ سب سے محبت کرتا ہوں .صبروتحمل کا مظاہرہ کریں اور ہمارے لئے دعاکا سلسلہ جاری رکھیں”.
واضح رہے کہ ان پانچوں امریکیوں نےسرگودھا میں انسداددہشت گردی کی عدالت میں گذشتہ پیشی کے بعد قیدیوں کی گاڑی پر واپسی جاتے ہوئے چلا کرخود پرتشدد کی شکایت کی تھی لیکن پولیس اورجیل حکام نے ان سے کسی ناروا سلوک کی تردید کی تھی اورکہا تھاکہ انہوں نے عدالت میں ایسی کوئی شکایت نہیں کی.
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…