Categories: فقہ و احکام

کیا دواؤں اور پرفیوم میں الکحل کا استعمال جائز ہے؟

اسلامی شریعت کی رو سے الکحل کا کیا حکم ہے؟ مثلاً دواؤں، پرفیوم اور عطر میں الکحل موجود ہو یا الکحل کپڑے یابدن پرگرجائے تو اس کاکیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب
الکحل متعدد اشیاء سے تیار ہوتاہے مثلاً: انگور، کھجور، شراب، لکڑی، شہد، نمک، اناناس کاپانی، جو، سالفور، سالفیٹ وغیرہ سے الکحل بنایا جاتاہے۔
اب الکحل اگر کچے انگور اور کجھور سے بنایا جائے اس کا کارو بار اور استعمال بالاتفاق ناجائز ہے۔ لیکن ان دوچیزوں کے علاوہ کسی اور چیز سے تیار ہوجائے تو جائز مقاصد کے لیے اس کا استعمال فقہ حنفی کی رو سے صحیح اور جائز ہے جیسا کہ طب، دارو، کیمیاوی انڈ سٹری وغیرہ کے لیے اس کا استعمال کیا جائے۔
علامہ مفتی محمدتقی عثمانی مدظلہ تکملہ فتح الملھم(1/551) میں برطانیا کے دائرۃ المعارف (انسائیکلوپیڈیا) کی کتاب سے نقل کرکے لکھتے ہیں: اس کتاب میں الکحل کے بنیادی مواد جن سے الکحل بنتاہے، کی ایک فہرست دی گئی ہے۔ ان میں شہد، انگور اور کھجور کا شیرہ، فریجل (دال وغیرہ) اناناس کا پانی، جو، سالفور کاجوہر، سالفیٹ وغیرہ کانام لکھا ہواتھا مگر انگور اور کھجور کا نام فہرست میں شامل نہیں تھا۔ نیز پینے کی اشیاء میں نجاست کے حکم کی وضاحت کے بعد تکملہ کی تیسری جلد ص608 میں یوں لکتھے ہیں : اس وضاحت اور تشریح کے بعد نشہ آور الکحل جو آج کل ابتلائے عام بن چکاہے کی حقیقت واضح ہوجاتی ہے۔
چونکہ بہت ساری دواؤں، پرفیوم اور ترکیبی اشیاء میں الکحل کا استعمال ہوتاہے تو اگر یہ الکحل انگور یا کجھور سے بنا ہوا ہو تو اس کے حلال ہونے اور پاک ہونے کا کوئی راستہ نہیں البتہ اگر انگور وکجھور کے علاوہ کسی دوسری چیزسے تیار ہوجائے تو دوا ودیگر مباح کاموں کے لیے اس کا استعمال جائز ہے اس شرط کے ساتھ کہ نشہ کی حدتک نہ پہنچے ۔ یہ امام ابوحنیفہ رح کا مذہب ہے جو آسان ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اشیاء ترکیبی ہیں اور ان کے نجس ہونے کا حکم نہیں دیاجاسکتا۔ نیز اکثر الکحل جو آج کل دواؤں، خوشبووں اور اسپرے والے پرفیوم میں استعمال ہوتے ہیں انگور یا کھجور سے نہیں بنتے بلکہ حبوبات (frijol)، چلکے، سلیگ slag، مٹی کے تیل وغیرہ سے تیار ہوتے ہیں جیساکہ ” باب بیع الخمر” کتاب البیوع ۱؍۵۵۱ میں اس کا تذکرہ ہوا۔ تو ابتلائے عام کی صورت میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہے۔ واللہ سبحانہ اعلم بالصواب
(تکملہ فتح الملہم :3/608 کذا فی احسن الفتاویٰ 282/95، 8/2 کتاب الاشربۃ)

مفتی خدانظر رحمہ اللہ
دارالافتاء دارالعلوم زاہدان

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

7 days ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago