تاریخ تاسیس و تعارف دارالعلوم مکی زاہدان ۔ ایران

اسلامی تاریخ اس بات پر گواہ ہے دینی مدارس ہمیشہ اعلی دینی و ایمانی ارمانوں کے مراکز رہے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانیت پر مثبت اثرات چھوڑگئے۔ در حقیقت دینی مدارس دینداری و حق طلبی کو فروغ دےکر عامۃ الناس کو دین سے مضبوط تعلق قائم کرنے کے ذریعے ہیں۔ دین کے درد رکھنے والے مصلحین،معماران امت اور دینی شعور پیدا کرنے والے انہی مدارس کے تربیت یافتہ ہیں جنہوں نے دنیا میں ایک انقلاب بپا کیا ہے۔

دارالعلوم زاہدان جس کے با مقصد منصوبوں نے احیائے دین اور درخت اسلام کی آبیاری کی راہ میں قابل قدر خدمات سر انجام دیا ہے اسی سلسلے کی ایک مضبوط کڑی ہے۔ اس دینی و علمی ادارے کی سرگرم و مخلص انتظامیہ کی بے وقفہ کوششوں اور توفیق الہی کی برکت سے یہ جامعہ کمال کے مدارج طے کررہاہے اور آئے دن اس کی افادیت بڑھ رہی ہے۔ صحرائے علم و دین کے پیاسے حکمت و معرفت کے سرچشمے سے اپنی پیاس بجھا کر فیض یاب ہورہے ہیں۔
اب دارالعلوم زاہدان آسمان علم وثقافت کا روشن ستارہ بن چکاہےجس کا شمار ایران کے سب سے مشہور اور ممتاز علمی مراکز سے ہوتاہے۔ علمائے کرام و حفاظ قرآن کا ماوی ومسکن دارالعلوم زاہدان کا عوام میں معنویات کے فروغ و علوم قرآنی و نبوی کی حفاظت کے سلسلے میں اہم کردار ہے۔ اس آباد اور عہدساز جامعہ کی بنیاد شہرہ آفاق مفکراسلام اور بلوچستان کے مشہور عالم دین حضرت مولانا عبدالعزیز سربازی نے رکھی جواب تک ترقی کی منازل طے کررہاہے۔

اس سے پہلے کہ دارالعلوم زاہدان کے مختلف شعبوں سے واقفیت حاصل ہو بہتر ہوگا اس کے بانی کا تعارف پیش کیا جائے۔

مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ کے مختصر حالات زندگی اور سنگ بنیاد دارالعلوم زاہدان

مولانا عبدالعزیز رحمة الله علیه کے والد گرامی مولانا قاضی عبداللہ سربازی تھے جن کاشمار علاقے کے ممتاز اور سرگرم علماء میں ہوتاتھا۔ مولانا عبداللہ دعوت وارشاد اور حق گوئی کے حوالے سے مشہور تھے جنھوں نے ذکری فرقہ، بدعتیوں اور قبرپرستوں کے خلاف جہاد کرکے اس راہ میں شدید مشکلات کا بھی سامنا کیا۔ آپ نے اپنی پیہم کوششوں سے راہ حق و حق پرستی سے رکاوٹوں کو دورکیا۔
مولانا عبدالعزیز (رح) کی پیدائش 1295 ہجری شمسی (1916ء) کو ایرانی بلوچستان کے ضلع سرباز کی ایک بستی ’’دپکور‘‘ میں ہوئی۔
آپ رح نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کرنے کے بعد سخت مشکلات وپریشانیوں کے باوجود ہندوستان کا رخ کیا اور بر صغیر کی معروف دینی درس گاہ دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا۔
بانی دارالعلوم زاہدان مولانا عبدالعزیز رح نے درس نظامی کے اکثر درجات دارالعلوم دیوبند میں‌ پڑھنے کے بعد اعلی تعلیم کے لیے مدرسہ امینیہ دہلی کا انتخاب کیا۔ مولانا نے مفتی کفایت اللہ رحمہ اللہ جیسی شخصیات سے استفادہ کرکے “مدرسہ امینیہ دہلی” سے سند فراغت حاصل کی۔
مولانا عبدالعزیز اپنی بے انتہا ذکاوت اور قابلیت کی وجہ سے اساتذہ کی توجہات سمیٹنے میں کامیاب ہوئے تھے چنانچہ مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ دہلوی (رح) نے انھیں ” مفتی بلوچستان” کے لقب سے نوازا۔ دہلی میں اپنے قیام کے دوران آپ نے دعوت و تبلیغ کے بانی مولانا محمدالیاس رحمه الله سے ملاقات کرکے ان سےبھی استفادہ کیا۔
علوم نبوت کے سرچشموں سے اپنی علمی پیاس بجھانے کے بعد 1943ء میں آپ وطن واپس ہوکر دعوت و ارشاد کا آغاز کیا اور کمرٍ ہمت باندھ کر عوام کو توحید، اسلامی اخلاقیات اور عبادات کی طرف دعوت دینا شروع کیا۔
اپنے والد کی نگرانی میں ایک عرصہ تک بلوچستان میں اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کرنے کے بعد فریضہ حج ادا کرنے اور حرمین شریفین کی برکات سے مستفید ہونے کی نیت سے آپ نے سرزمین وحی کا رخ کیا۔ جب مدرسہ صولتیہ(1) کے ذمہ داروں کو آپ کی موجودگی کا علم ہوا تو انہوں نے بانیء دارالعلوم سے درخواست کی کہ اپنے علوم و فیوض سے مدرسہ صولتیہ کے طلباء کو بہرہ ور فرمائیں۔ مولانا عبدالعزیز (رح) نے دو سال تک حرم مکی کے انوار و برکات سے استفادہ کرکے صولتیہ کے طلبہ کو بھی فیض یاب کرتے رہے۔ صولتیہ کے اساتذہ و دیگر ذمہ داران مولانا سے بے حد متاثر ہوئے۔ آپ کا مکۃ المکرمۃ میں مزید قیام کا ارادہ تھا مگر والد کے خط نے آپ کو بلوچستان کی طرف روانہ کرنے پر مجبور کیا۔ مولانا عبداللہ (رح) نے خط کے ذریعہ اپنے فرزند ارجمند سے کہاتھا وہ اپنے پسماندہ علاقہ میں دینی خدمات انجام دینے کو حرمین شریفین میں قیام پر ترجیح دیں۔
مولانا عبدالعزیز (رح) نے امربالمعروف ونہی عن المنکر اور دعوت و اصلاح کو اولویت دی۔ آپ نے لوگوں کے روزمرہ اختلافات اور قبائلی تنازعات کے تصفیے پر اپنی توجہ مرکوز کردی۔
کچھ عرصے کے بعد آپ نے اپنے آبائی علاقہ’’دپکور‘‘میں ایک دینی مدرسے کی بنیاد ڈالی اورمدرسے کے بانی ومہتمم کی حیثیت سے بعض دیگرعلماءکے ساتھ تدریس میں مصروف ہوگئے۔

اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ1956ء میں والد کے علاج کے غرض سے آپ نے ایرانی بلوچستان کے دارالحکومت زاہدان کارخ کیا اورایک مہینے تک زاہدان میں قیام پذیرہوئے۔ اپنی دینی غیرت وحمیت، اتباع سنت اوراصلاحی مزاج کی وجہ سے اس دوران آپ نے زاہدان کے عوام کواتباع دین کی دعوت دی۔ ہرجگہ ان کایہی شیوہ تھا۔
چنانچہ زاہدان کے سرکردہ افراد اور خیرخواہ شخصیات نے مولانا کی امت کے لیے دردوفکر اوردلسوزی کودیکھ کر اس سے مثبت اثرلیا اورآپ کےشمع وجود کے گردحلقہ زن ہوئے۔ شہرکی معزز ودوراندیش شخصیات نے قاضی عبداللہ سے درخواست کی کہ وہ اپنے فرزندِ ارجمند کو زاہدان میں قیام کی اجازت دیں اور والد کی موافقت کے بعد مولانا کوبھی شرح صدر ہوا۔
آپ نےعلم ومعرفت کے روشن چراغوں سے جاہلانہ رسوم و رواج وخرافات پرستی کی تاریکیوں ‌کا خاتمہ کردیا۔ جہالت، بدعات، تنازعات اور نادانی کے گرداب میں گرفتار”دزآپ”مولانا کی انتھک محنتوں اورشفقت ودرد سے بھرے مواعظ‌ کی بدولت انوار دین وایمان سے آشنا ہوا اور لوگوں کی زندگیاں بدلنے لگیں۔

دارالعلوم زاہدان کا سنگ بنیاد
مولاناعبدالعزیزرحمہ اللہ نے مستقل طور پرزاہدان میں رہائش اختیارکی اور اپنی اصلاحی ودینی سرگرمیوں کو مزید تیزکردیا۔ معاشرے کی علمی ودینی پسماندگی دیکھ کرمسلمانوں کےبچوں کواسلامی علوم سے آشنا کرنے کے غرض‌سے آپ دینی مدرسہ بنانے کی سوچ میں پڑگئے تھے۔ زاہدان کے دین دوست شہری مولاناعبدالعزیز(رح) کی تقاریر واصلاحی بیانات سے انتہائی متاثرہوئے تھے۔ اس زمانے میں زاہدان کی مرکزی جامع مسجد (مسجدعزیزی) تھی جوچھوٹی ہونے کے باوجود جمعہ کے دن نمازیوں کی کمی سے نالاں تھی۔ جامع مسجدکے ساتھ چندچھوٹے کمرے بھی بنائے گئے تھے۔ جمعے کی امامت قاضی شاہ محمدمرحوم کرتے تھے جومسجدکے پڑوس میں رہائش پذیرطلبہ کوپڑھا بھی رہے تھے۔
قاضی شاہ محمد کی وفات کے بعد مولاناعبدالعزیزجامع مسجد (موجودہ مسجدعزیزی) میں قیام پذیرہوئے اورپوری یکسوئی کے ساتھ دعوت واصلاح کے عظیم کام میں مصروف ہوگئے۔ اس دوران مولاناعبدالحمید دامت برکاتہم جو درس نظامی سے فارغ التحصیل ہوکرواپس زاہدان تشریف لاچکے تھے مولاناعبدالعزیزکی خواہش پرتدریس سے وابستہ ہوئے۔
کچھ عرصے کے بعد مولاناعبدالعزیز(رح) نے مدرسہ کو دوسری جگہ منتقل کرنے کا ارادہ کیا۔ نئی جگہ کے بارے میں دو رائے سامنے آئیں۔ بعض لوگوں کی خواہش تھی یہ مدرسہ قدیم عیدگاہ کے ساتھ قائم ہوجائے جبکہ کچھ لوگوں کا کہناتھا مدرسے کی بنیاد زاہدان کے مغربی علاقہ “کوہ تیراندازی” کے پاس ڈالی جائے۔ استخارہ وقرعہ اندازی کے بعد کوہ تیراندازی کے دامن میں مدرسہ بنانے کے حامی جیت گئے۔ لوگوں نے بلاتاخیرایک مناسب جگہ تیارکرکے مولانا کے حوالے کردی۔ دیواربناکرمدرسے کی حدود کا تعین کیاگیا اور مولاناعبدالحمید زیدمجدہم کے لئے ایک مکان تعمیرکیاگیا۔
مدرسے کی نئی عمارت شہرسے باہرایک ویران اورغیرآبادعلاقے میں واقع ہوچکی تھی۔ وہاں کسی کا گھرتھا نہ “جامع مسجدمکی” اورمشہور زمانہ “خیابان خیام” کا نام ونشان تھا۔ 1971ءکے ایک یادگاردن میں جامع مسجد (عزیزی) کے مدرسے سے تمام طلباء “دارالعلوم زاہدان” منتقل ہوئے۔ دارالتحفیظ اور دارالمطالعہ کی موجودہ جگہ پرچھوٹی سی مسجد تعمیرکی گئی جس میں طلبہ اورمدرسے کے آس پاس رہنے والے لوگ نمازپڑھتے تھے۔ دوپہر کوسخت دھوپ پڑتی تھی۔ گرمی سے بچاؤکے لیے ہال کے اندر یا دارالافتاء کے سامنے والے کمرے میں ظہرکی نمازاداء کی جاتی تھی۔
ابتدامیں طلبہ کی تمام ضروریات عوام کے ذریعے پوری ہوتی تھیں۔ گذرایام کے ساتھ ساتھ حالات میں بہتری آئی۔ مولاناعبدالحمید دامت برکاتہم کے گھرمیں روٹی پکتی تھی اور دو وقت کاکھانا بھی وہیں تیار ہوتاتھا۔ اس زمانے میں طلبہ کی تعداد60سے80کے درمیان تھی۔ مولاناغلام محمد (حافظ محمداسلام کے والدماجد)، مولانامفتی خدانظررحمہ اللہ، مولانا نذیراحمدسلامی، حافظ قاری خدابخش اورحضرت شیخ‌الاسلام مولاناعبدالحمید زیدمجدہم طلبہ کوپڑھاتے تھے۔
حضرت شیخ الاسلام دامت برکاتہم سے کئی مرتبہ سنا گیاہےکہ انہوں نے حرمین شریفین اور اجابت دعا کی مخصوص جگہوں خاص طورپرمیدان عرفات میں جامعے کی ترقی، نشو ونما اور اس علمی مرکزکی مقبولیت کے لئے بہت دعافرمائی۔ شہسوارقافلہ حق کی دعاؤں، اخلاص و للہیت اورشب وروزکی کاوشوں کی برکت سے جامعہ دارالعلوم زاہدان کاشمارایران سمیت پورے خطے کے ممتاز اورمایہ نازدینی مدارس میں ہونے لگا۔؎
کعبہ را ہردم تجلی مے فزود                 آن زاخلاصات ابراہیم بود

مولاناعبدالعزیز (رح) کی بیماری اورسانحہ ارتحال
مولاناعبدالعزیز1981ء میں مرض قلب میں مبتلاہوئے۔ دوستوں کے اصرار اورڈاکٹروں کے مشورے پرعلاج کیلئے آپ انگلینڈ تشریف لے گئے۔ کچھ افاقہ ہونے کے بعد واپس وطن آگئے۔ لیکن ڈیڑھ سال کے بعد دوبارہ طبیعت خراب ہوگئی اورچارمہینے تک آپ بستربیماری سے اٹھ نہ سکے۔
لندن میں قیام کے دوران آپ کو گردوں کی تکلیف محسوس ہوئی۔ ایران واپس آنے کے بعد ڈاکٹرز کے مشورے پرگردے کی پیوندکاری کے لئے آپ نے امریکا کارخ کیا۔
امریکی ڈاکٹروں نےاس ادھیڑعمری میں گردے کی پیوندکاری کوغیرسودمند قراردیا۔ ریاست کیلفرنیا میں چند دن قیام کے بعد آپ واپس ایران آگئے۔ علاج اورخون کی صفائی کیلئے کئی دفعہ تہران اورمشہد تشریف لے گئے۔
مولاناعبدالعزیزرح اپنی بابرکت عمرکے آخری ایام میں ڈائلز کے لئے مشہد میں رہائش پذیرہوئے اور1987ء میں مشہد ہی میں موت کے منادی کو لبیک کہہ کر خالق حقیقی سےجا ملے۔ رحمہ اللہ رحمۃواسعۃ واسکنہ جناتہ
بانی دارالعلوم زاہدان مولانا عبدالعزیز رح کے سانحہ ارتحال کے بعد مسجد و مدرسہ کو سنبھالنے کی حساس اورسنگین ذمہ داری مولاناعبدالحمید دامت برکاتہم پر آگئی۔ مولانا عبدالحمید کی سنجیدہ کوششوں اور مسلسل محنتوں کی برکت سے تھوڑے ہی عرصہ میں قابل دید ترقی اور مثبت تبدیلیوں نے دارالعلوم زاہدان کو چار چاند لگادیا۔
1979ء کے انقلاب کے بعد مناسب اسلامی ماحول پیداہونے کی وجہ سے بتدریج طلبہ کی تعداد بڑھنے لگی۔ 1985ء میں مولانا مفتی محمدقاسم قاسمی صاحب حضرت شیخ الاسلام حفظہمااللہ کی دعوت پر دارالعلوم زاہدان تشریف لائے اورطلبہ کی تعلیم وتربیت کی ذمہ داری سنبھالنے لگے۔ مفتی قاسمی صاحب کی تشریف آوری کے بعد ان کی خدادادصلاحتیوں اورمخلصانہ کاوشوں کی بدولت جامعہ کی فضا میں علمی وثقافتی تبدیلی آگئی اورعربی زبان کی طرف رغبت میں بے حداضافگی دیکھنے میں آئی۔
طلبہ کی تعداد کا گراف اوپرکی طرف جانے لگا اورجامعہ کی چاردیواری ناکافی نظرآئی۔ چنانچہ حضرت شیخ الاسلام مولاناعبدالحمید کی ہمت پرآس پاس کے مکانات کوخرید کر جامعہ کی تعمیرنو میں انہیں دارالعلوم کی حدود میں شامل کیاگیا۔

ذیل میں دارالعلوم زاہدان کے بعض شعبوں کامختصرتعارف پیش خدمت ہے۔

دارالعلوم کی ادارت واہتمام کی ساخت

تمام شعبہ جات کی سرپرستی حضرت شیخ الاسلام مولاناعبدالحمید دامت برکاتہم فرماتے ہیں۔ آپ صحیح بخاری کی تدریس کے ساتھ ساتھ ایک مدبرمہتمم کی حیثیت سے جامعہ کے تمام امورکی نگرانی بھی فرماتے ہیں۔
خلاؤں کو پر کرنے اور شعبوں کی مزید ترقی کے لیے ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ حضرت شیخ الاسلام کا دفتر اداری دفاتر کی عمارت میں واقع ہے۔ اسی دفتر میں امور جامعہ کے علاوہ عامۃ الناس کے مسایل و مشکلات کی شنوائی بھی ہوتی ہے۔ بہت سارے اہم سیاسی مسائل اور قبائلی تنازعات کے حل کے بارے میں یہاں فیصلہ ہوتاہے۔

نائب مدیر کا دفتر
اس دفتر کی اہم ذمہ داریوں میں جامعہ کے ملازمین اور عملہ کے امور اور تعلقات، جامعہ کے حوالے سے داخلہ و خارجہ ہم آہنگی و اتفاق پیدا کرنا، طلبہ کی رہائشی، رفاہی اور معیشتی مسائل کا حل شامل ہے۔
اسی طرح اساتذہ و ملازمین کی تنخواہوں کی نگرانی اور بیمہ(شرعی انشورنس) کی سہولت کی فراہمی اور حسب ضرورت ان کی رہائش کا مسئلہ حل کرنا بہی ادارتی امور میں نائب مہتمم کا کام ہے۔

ناظم تعلیمات

درج ذیل کام نائب مہتمم برائے تعلیمی امور کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ جدید طلبہ کے لیے داخلہ کی منصوبہ بندی، اسباق کی تقسیم، نصاب درسی کی ترتیب و تنظیم، طرق تدریس کی نگرانی، تمام درجات کی نگرانی اور درس گاہوں کی دیکھ بھال کے لیے نگران متعین کرنا، تکرار و مطالعہ اور دروس کی نگرانی، امتحانات کی نظامت، مختلف میدانوں میں طلبہ کے درمیان مقابلوں کا انعقاد، درسی امور میں اساتذہ و طلبہ کے مسائل کا حل، درسی کتب اور ضروری کتابچوں کی فراہمی، تعلیمی امور میں “شورائے ہم آہنگی مدارس” کے منظور شدہ قوانین کے اجرا کی نگرانی، اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ کے لیے خصوصی کلاسوں (سمرکیمپس) کا انعقاد، انگریزی اور کمپیوٹر سمیت دیگر ضروری مواد کے کورسز منعقد کرنا اور تعلیمی امور میں موجود کمزوریوں کے بارے میں تحقیق کرنا اور شورائے مدارس اہل سنت کو آگاہ کرنا ناظم تعلیمات کی اہم ذمہ داریوں میں ‌سے ہیں۔

دارالافتاء
1984ء (1404ھ) میں دارالافتاء دارالعلوم زاہدان نے مفتی خدانظر رحمۃ اللہ کی نگرانی میں باقاعدہ اپنا کام شروع کیا۔ عوام کے شرعی سوالات کا جواب پہلے زبانی دیاجاتا تھا پھر تحریری طور پر فتوے صادر ہونے لگے۔ تمام فتاوی کا ریکارڈ ترتیب کے ساتھ بنایا گیا۔ جب شعبہ تخصص فی الافتاء قائم ہوا تو ترتیب و حفاظت کا کام اس شعبہ کے حوالے کیا گیا۔ بعد میں مفتی خدانظر رحمه الله کی ہمت و محنت سے پرانے صادر ہونے والے فتاوی فقہی ابواب کی ترتیب سے زیور طبع سے آراستہ ہوکر”محمودالفتاوی” (فتاوائے دارالعلوم زاہدان) کے عنوان سے کتابی شکل میں شائع ہوئے۔ اب تک قریبا محمودالفتاوی کی چار جلدیں شائع ہو چکی ہیں اور دیگر حصے بھی تدوین و ترتیب کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔

تخصص فی الافتاء کا آغاز
1991ء (1411ھ) میں معاشرے کی شدید ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے دارالعلوم زاہدان کے ذمہ داروں نے اس شعبہ کا آغاز کیا جس کا مقصد بعض منتخب اور با صلاحیت فضلاء کو فتوا نویسی کی تربیت اور فقہ وافتاء کے میدان میں انہیں مہارت حاصل کرنے کا موقع فراہم کرناتھا۔ نوجوان فضلائے کرام نے مفتی خدانظر رحمه الله اور مفتی قاسم قاسمی صاحب کی نگرانی میں فتوانویسی اور متعلقہ امور میں حصول علم کا سفر آغاز کیا۔ مختصر عرصے میں اس شعبہ نے باقاعدہ مرتب درسی نصاب کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھا اور اس کا نصاب دارالعلوم زاہدان کے نصاب کا حصہ بن گیا۔  

تخصص فی الحدیث
تعلیمی سال 28-1427ھ میں تخصص فی الحدیث کا اجراء ہوا جس کےافتتاحی پروگرام میں مشہور محدث جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاون کے شعبہ تحقیق وتخصص فی الحدیث کےنگران مولانا عبدالحلیم نعمانی صاحب نےشرکت فرمائی۔ جیسا کہ شعبہ کےنام سے واضح ہےاس تخصص کا مقصد منتخب فضلائےکرام کو فن حدیث اور اس کے متعلق دیگر فنون میں مہارت حاصل کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ تجربہ کار اور باصلاحیت اساتذہ کی نگرانی میں تخصص فی الحدیث کے طلبہ علمی کاوشوں میں مصروف ہیں اور اعلی علمی خدمات سرانجام دینےکے قابل بن رہےہیں۔

تخصص فی الدعوۃ والارشاد
زمانہ طالبعلمی ہی سے دینی مدارس کے طلبہ حصول علم کےلیے کوشاں ہیں تا کہ اپنی اصلاح کے علاوہ امت دعوت واجابت کو بھی صحیح راستے کی راہ دکھائیں۔ دعوت وارشاد اور امت کی اصلاح ہی علم دین کے حصول کا داعیہ ہے۔ اس پرفتن دورمیں اسلام اور مسلمانوں سمیت پوری انسانیت کو خطرناک چیلنجز کا سامنا ہے۔ خودغرضی اور مادیت پرستی کا دور دورہ ہے۔ ایسے حالات میں دعوت وارشاد کی باریکیوں اور اصول وضوابط سے آگاہ علمائے کرام ہی امت کی صحیح رہ نمائی کرسکتےہیں۔ دارالعلوم زاہدان نے اسی ضرورت کے پیش نظر “تخصص فی الدعوۃ والارشاد ” کا آغاز کرکے عالمانہ دعوت وتبلیغ کی راہ ہموار کی ہے۔ اس تخصص میں فارغ التحصیل طلبہ کو دعوت و ارشاد کےممکنہ طریقوں سےعلمی وعملی طور پرآشنا کیا جاتا ہے۔ فتنوں اور باطل کی شرانگیزیوں سے انہیں واقف کیا جاتاہے جس کےبعد وہ ہر چیلنج سے نمٹنے کےلیے پوری طرح تیار ہوتے ہیں۔ دیگر تخصصات کی طرح تخصص فی الدعوۃ والارشاد کا دورانیہ بھی دو سال ہے۔

مجمع فقہی اہل سنت ایران

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید اور مفتی خدانظر رحمه الله کے علمی شاہکاروں اور نمایاں خدمات میں سے ایک “مجمع فقہی اہل سنت ایران” کی تاسیس ہے جس کا دفتر دارالعلوم زاہدان میں واقع ہے۔
اس مجلس کی بنیاد 1998ء (1418ھ) میں ڈالی گئی جس کے ارکان میں ایران کے مختلف علاقوں سےتعلق رکھنے والے علماء و فقہاء شامل ہیں۔ معاشرےکو در پیش جدید مسائل کا حل اس مجلس میں بحث وتحقیق کے لیے پیش کیا جاتاہے چنانچہ ماضی اور معاصر کے فقہا کی آراء اور کتاب وسنت کی روشنی میں فتوےصادر ہوتے ہیں۔
ایرانی بلوچستان کے علماء و فقہا کی دعوت پر اس مجلس کی تاسیس ہوئی اور بعد میں خراسان، گلستان، صوبہ فارس سمیت ایران کے جنوبی علاقوں سے تعلق رکھنے والے علمائے احناف وشوافع کو رکنیت دی گئی۔ اب تک یہ مجلس قابل ذکر کامیابیاں‌ حاصل کر چکی ہے۔

شورائےہم آہنگی مدارس (اتحاد مدارس اہل سنت سیستان وبلوچستان)
دینی مدارس اور طلبہ کی تعداد مین اضافہ ہونےکےساتھ ساتھ دینی مدارس کےدرمیان ہم آہنگی وتعلق کا فقدان بڑھنےلگا، اس خلا کو پر کرنے کے علاوہ طلبہ کی تعلیمی صلاحتیوں میں نکہار پیدا کرنے کو مدنظر رکھ کر اس ادارے کی تاسیس کی گئی۔ چنانچہ مولاناعبدالعزیز، مولانا عبدالحمید اور مولانا محمدیوسف حسین پور کی محنتوں کےنتیجے میں “شورائے ہم آہنگی مدارس اہل سنت سیستان وبلوچستان” کا اجرا ہوا جس کے بنیادی مقاصد مدارس کے درمیان تعلیمی، تربیتی اور ثقافتی امور میں ہم آہنگی پیدا کرنا اور کیفیت کے اعتبار سے مدارس کی نشو ونما تھے۔ آیت اللہ خمینی کے انقلاب سے پہلے تشکیل پانےوالے اس ادارے کے ارکان شروع میں صرف چھ تھے مگر بتدریج دیگر مدارس نے بھی رکنیت حاصل کرلی چنانچہ ایرانی صوبہ سیستان وبلوچستان کےتمام معتبر دینی مدارس اس شورا کے رکن ہیں جن کی تعداد چالیس سے زیادہ ہے۔ شورائے ہم آہنگی مدارس اہل سنت کا مرکزی دفتر دارالعلوم زاہدان میں واقع ہے۔

سہ ماہی رسالہ” ندائے اسلام”

دیگر شعبوں کے ساتھ صحافت اور میڈیا کے میدان میں بھی دارالعلوم زاہدان خدمات انجام دینے کو اپنی ذمہ داری سمجھتاہے۔ عوام کی روزمرہ زندگی میں میڈیا کا موثر کردار ناقابل انکار ہے۔ اسی لیےدارالعلوم زاہدان کےمخلص ذمہ داروں کی مسلسل کوششوں کے نتیجہ میں 2000ء کے ابتدائی دنوں میں ایران کی وزارت اطلاعات ونشریات (فرہنگ وارشاد) کی طرف سےسہ ماہی “ندائے اسلام” کواشاعت کی اجازت مل گئی اور اپریل 2000ء میں اس کا پہلا شمارہ شائع ہوگیا۔ فارسی اور انگریزی میں شائع ہونےوالا یہ رسالہ جلد ہی ایران اور خطے کے دیگر ممالک میں اپنے قارئین کا حلقہ وسیع کرنےمیں کامیاب ہوا۔ اس رسالے کی سرکولیشن پندرہ ہزارہے۔
’’ندائے اسلام‘‘ کی پالیسی حقیقت پسندی، مسایل کے بیان میں اعتدال و میانہ روی، افراط وتفریط سے گریز اور مخصوص سیاسی رویوں اور رجحانات سے دوری کرناہے۔ نیز خالص اسلامی عقائد سے دفاع اور علمی وفکری جہاد کی راہ میں کوشش کرنا ادارے کی ذمہ داری ہے۔ ہر تین مہینے کے بعد شائع ہونے والے رسالے کا دفتر دارالعلوم زاہدان کے ادارتی دفاتر کی عمارت میں واقع ہے۔

مدرسۃ البنات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا
خواتین اور بچیوں کی دینی تعلیم معاشرے اور لوگوں کی ضروریات میں سے ہے۔ غیراسلامی تہذیبوں کی یلغار کا سد باب اور خواتین کو شرعی مسایل سے آشنا کرنا توجہ طلب مسئلہ ہے جس کے لیے بڑی عرق ریزی سے منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے۔
اللہ تعالی کے فضل وکرم سے اور حضرت شیخ‌الاسلام کی اوالعزمی کی برکت سے 1990ء مطابق 1410 ھ معاشرے کی یہ ضرورت مدرسۃ البنات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شکل میں پوری ہوئی۔
جب مسلمان بچیوں کا رجوع زیادہ ہونے لگا تو مدرسۃ البنات کے ذمہ دار حضرات کو شہر زاہدان کے مختلف علاقوں میں شاخیں کھولنی پڑی۔ عوام کے گرم استقبال کی وجہ سےاس وقت زاہدان میں اس ادارے کی سات شاخین قائم ہیں جو اسلامی معاشرے کو بےشمار فارغ التحصیل دے چکی ہیں۔ طالبات کی روزبہ روز بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے مدرسہ کی موجودہ جگہ ناکافی نظر آرہی ہے۔

مکاتب اور شاخیں
ویسے تو روحانی طور پر بےشمار دینی ادارے اور مدارس دارالعلوم زاہدان کے نقش قدم پر چل رہے ہیں مگر براہ راست مکمل طور دو رہائشی دینی مدرسے جامعہ کے زیر اہتمام خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
“مدرسہ دینی مولانا عبدالعزيز” جو زاہدان شہر میں واقع ہے اور “مدرسہ دینی کانوک” جو زاہدان کے نواحی علاقے میں ہے۔ ان دو مدرسوں کا شمار بلوچستان کے ممتاز مدارس میں ہوتاہے۔ غیر رہائشی مکاتب قرآنی کی تعداد 150 سے زائد ہے جو دارالعلوم کے زیر انتظام مصروف عمل ہیں۔ “دفتر امور مکاتب” جو دارالعلوم کے ادارتی دفاتر کی عمارت میں واقع ہے انہی مکاتب قرآنی کے امور و مسایل کی نگرانی کےلیے ہے۔ ان مکاتب کا جال پورے صوبے میں پھیلا ہوا ہے۔ جن میں مسلمان بچے مفت میں اعلی دینی و اسلامی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔

دفتر برائے امور طلبہ (عصری جامعات کے طلباء)

دارالعلوم زاہدان کا ایک اہم اور مثبت اقدام اس انقلابی شعبے کا قیام ہے۔ اس شعبہ کا مقصد دینی مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کے طلبہ کو ایک دوسرےسے قریب کرنا اور باہمی تعاون کی فضا قائم کرناہے۔ یونیورسٹیوں کے طلبہ کا دارالعلوم زاہدان سے محبت اور اس کے پرسکون علمی ودینی ماحول سے پرجوش استقبال اور شرعی مسائل کے بارے میں آگاہی حاصل کرنے کاجذبہ دیکھ کر جامعہ کےمنتظمین نےایک منظم شعبے کے قیام کا ارادہ کیا۔
1990ء ہی سے اسٹوڈنٹس کےلیے خصوصی کاوشوں کا آغاز ہوا۔ مسجد عزیزی (جامعہ کی پرانی جگہ) میں ایک لائبریری اور آڈیوبینک قائم ہوئی۔ درس قرآن کےہفتہ وارمجالس کا آغاز ہوا اور حضرت شیخ الاسلام کی تاکید کےبعد ان طلبہ کی دینی ترقی کے غرض سےایک مستقل شعبہ قائم ہوا۔ اس شعبہ کا کام دارالعلوم اور یونیورسٹیوں سےتعلق رکھنے والےطلبہ واساتذہ کےدرمیان تعلق قائم کرناہے۔ غیر زاہدانی طلباء جو زاہدان کی مختلف یونیورسٹیز میں زیر تعلیم ہیں کےلیے جامعہ کےقریب رہائش گاہ کرایے پرحاصل کرلی گئی۔ رہائش گاہ کی عمارت دارالعلوم سےقریب ہونےکی وجہ سےیہ طلباء‌ دارالعلوم اور مسجد مکی کی روحانی و پرسکون فضاسے بہ آسانی استفادہ کرسکتےہیں۔ یہ طلباء تاریخ ،عقیدہ، تفسیر اور سیرت کی کلاسوں میں شرکت کرتےہیں۔ مدارس اور یونیورسٹیز کے طلبہ کا سالانہ مشترکہ اجلاس احاطہ دارالعلوم زاہدان میں منعقد ہوتاہے۔

سنی آن لائن ڈاٹ یو ایس

اسلام کی تبلیغ اور عوام وخواص سے رابطےکےلیے جدید آلات کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
انٹرنیٹ کی وسیع دنیا معلومات کےتبادلے اور اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کا آسان ترین ذریعہ ہے۔ دنیا کو ایک بستی میں تبدیل کرنےوالے اس جام جم کی اہمیت کو دیکھ کر “قدیم نافع وجدید صالح” کی پالیسی پرگامزن دارالعلوم زاہدان نےاس رنگ بہ رنگ دنیا میں آج سے دس سال پہلے قدم رکھا اور ایرانی اہل سنت کی آفیشل ویب سائٹ کا اجراء کیا۔
سنی آن لائن دنیا کی چار اہم زبانوں (عربی، فارسی، اردو اور انگریزی) میں اپ ڈیٹ ہوتی ہے۔
مختلف علمی اور مذہبی موضوعات کےعلاوہ عالم اسلام کی تازہ ترین صورتحال سے باخبر رہنے اور مستفید ہونے کےلیے روزانہ سینکڑوں صارفین اس ویب سائٹ کا وزٹ کرتےہیں۔
احاطہ دارالعلوم زاہدان میں واقع “سنی آن لائن” کے منصوبوں میں ترکی، روسی، پشتو اور بلوچی زبانوں کو ویب کی لینگویج سیلیکٹ آپشن میں اضافے کا عزم ہے۔  

مرکزی پبلک لائبریری
دارالعلوم زاہدان کی لائبریری کا شمار ایرانی اہل سنت کی بڑی اور ممتاز لائبریریوں میں ہوتاہے جس میں بیس ہزار جلدوں سےزائد کتابیں مختلف موضوعات اور زبانوں میں دستیاب ہیں۔
موجود کتابوں کی فہرست کمپیوٹر میں موجود ہے۔ لائبریری کے منتظمین متعدد موضوعات میں کتب کی فراہمی کےلیے کوشاں ہیں۔

شعبہ تحقیق وترجمہ
ایران میں اہل سنت برادری کو بعض کتابوں اور موضوعات کی اشد ضرورت کےپیش نظر دارالعلوم زاہدان کے اساتذہ و منتظمین نےشعبہ مرکز تحقیق وترجمہ کی سنگ بنیاد ڈالی۔
2003ء (1424ھ) میں قائم ہونے والا یہ مرکز مختصر عرصے میں کمال وترقی کے مدارج طے کرنے میں کامیاب ہوا۔

انتشارات (مکتبہ) صدیقی
قابل قدر خدمات سرانجام دینے والا انتشارات صدیقی دارالعلوم زاہدان کا ذیلی شعبہ ہے جو وزارت ارشاد (نشریات) کی اجازت سے دینی وثقافتی کتابوں کی اشاعت کا فریضہ سرانجام دیتاہے۔ یہ ادارہ اب تک متعدد کتابیں زیورطبع سے آراستہ کرچکا ہے۔ مرکز تحقیق وترجمہ کی شائع شدہ کتابوں کی طباعت کا کام بھی اسی ادارے کی ذمہ داریوں میں سےہے۔

دارالقضاء والتحکیم

متعدد افراد اور قبائل اپنے تنازعات اور جھگڑوں کا تصفیہ شریعت کےمطابق کرنا چاہتےہیں اور اسی لیےدارالعلوم زاہدان کا رخ کرتےہیں۔ دارالقضاء والتحکیم اسی تقاضے کی ایجاد ہے۔ چنانچہ دارالافتاء کے ساتھ ایسے تنازعات کےحل کےلیے مستقل شعبہ قائم کیا گیا۔ جامعہ کےاحاطے میں قائم دارالقضاء والتحکیم روزانہ بیسیوں افراد کے اختلافات ختم کرنےکی ذمہ داری احسن طریقےسے نبھارہاہے۔

آخری بات تمام مسلمانوں کی خدمت میں عرض ہے، دارالعلوم زاہدان کےمتعدد منصوبے مالی مشکلات کی وجہ سےتعطل کا شکار ہیں نیز بعض شعبوں کو قائم رکھنےکےلیے مالی تعاون کی ضرورت ہے۔ اس لیےتمام اصحاب خیر بھائیوں اور بہنوں، رفاہی اداروں اور دینی مدارس کے ساتھ خصوصی تعاون کرنےوالے اہل خیرسے اپیل کی جاتی ہے اپنے صدقات اور زکات کو اس عظیم اسلامی مرکز کےلیے خاص کرکے درج ذیل بینک اکاؤنٹس پر اپنی رقوم منتقل فرمائیں اور درگاہ الہی سے اجرمعنوی حاصل کریں۔

بینک صادرات، مسجد مکی برانچ، کرنٹ اکاؤنٹ51، کوڈ نمبر4239 حوزہ علمیہ دارالعلوم زاہدان
بینک ملی، مسجد مکی برانچ، کرنٹ اکاؤنٹ133، کوڈ نمبر8328 حوزہ علمیہ دارالعلوم زاہدان
بینک ملت، خدمات درمانی برانچ، کرنٹ اکاؤنٹ3/151، کوڈ نمبر3/ 4737حوزہ علمیہ دارالعلوم زاہدان

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

(1) یہ مدرسہ خلافت عثمانی کے دور میں قائم ہوا جس کے بانی مشہور عالم اور مناظر مولانا رحمت اللہ کیرانوی رحمه الله ہیں۔
(2) زاہدان کا پرانا نام جس کا مطلب “پانی کو اپنےاندر جذب کرنے والی زمین” ہے۔

modiryat urdu

Recent Posts

مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام

مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام

1 day ago

ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا

ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا

1 day ago

کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے والوں کے لیے نجات کا آخری راستہ ہے

کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…

3 days ago

زاہدان کے علما و قرآنی کارکنان کا مشاورتی اجلاس منعقد

زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…

3 days ago

مولانا مفتی محمدقاسم بنی‌کمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام

مولانا مفتی محمدقاسم بنی‌کمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام

1 week ago