اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے دفتر نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے حماس کے 5 سینئر کمانڈروں کو اس حملے کے جواب میں ہلاک کیا ہے جس کا الزام اس نے حماس پر عائد کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حماس نے آج دوبارہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی اور اپنے ایک رکن کو اسرائیلی فوجیوں پر حملے کے لیے بھیجا۔
بیان کے مطابق اسی اقدام کے جواب میں اسرائیل نے حماس کے 5 اہم رہنماؤں کو ہلاک کر دیا۔
اسرائیلی حکومت نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے سیز فائر کی مکمل پابندی کی جبکہ حماس نے اس کی خلاف ورزی کی اور اپنے کارندوں کو فوجیوں پر حملے کے لیے بھیجا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ثالثوں کو ایک بار پھر زور دینا چاہیے کہ حماس سیزفائر اور امریکی صدر ٹرمپ کی 20 نکاتی منصوبہ بندی پر عمل کرے، تین ہلاک شدہ یرغمالیوں کی لاشیں فوری واپس کرے اور اپنے ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کی اجازت دے تاکہ غزہ کی مکمل غیر عسکریت ممکن ہو سکے۔
غزہ میں گاڑی پر فضائی حملہ
بیان اس واقعے کے بعد سامنے آیا جب اسرائیل نے غزہ شہر کے مغرب میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا جس میں 4 فلسطینی جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے۔ ایک طبی ذریعے نے ہلاکتوں کی تصدیق کی۔
حماس نے تصدیق کی کہ اس حملے میں اس کا سپلائی اور اسلحہ یونٹ کا کمانڈر علاء الحدیـدی ہلاک ہوا ہے۔
حماس کے ایک رہنما نے العربیہ الحدث کو بتایا کہ حماس نے امریکہ کو اسرائیلی خلاف ورزیوں پر اپنی شکایت پہنچائی ہے اور واضح کیا کہ یہ اقدامات معاہدے کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی سنگین اور بڑھتی ہوئی خلاف ورزیاں ثالثوں اور امریکی انتظامیہ کو ذمہ داری کا احساس دلاتی ہیں کہ وہ معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کو روکیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق صورتحال کنٹرول سے باہر نہ جانے دینے کے لیے واشنگٹن سے رابطہ
اس دوران اسرائیلی میڈیا نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ سے رابطے جاری ہیں تاکہ غزہ کی صورتحال ہاتھ سے نہ نکل جائے۔
حکام کا کہنا ہے کہ معاہدہ اب بھی برقرار ہے اور نہیں ٹوٹا۔
خان یونس اور غزہ کے مشرقی محاذ پر گولہ باری
ہفتے کے روز قبل ازیں اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے مشرقی حصے پر دوبارہ گولہ باری کی۔ اسی طرح فوج نے غزہ شہر کے مشرق میں الشجاعیہ اور الزیتون محلے کے کئی علاقوں پر سخت گھیرا لگا دیا۔
یہ مسلسل خلاف ورزیاں ایسے وقت ہو رہی ہیں جب سیز فائر سنہ اکتوبر کی دس تاریخ سے نافذ ہے اور بنجمن نیتن یاھو مسلسل واضح کر چکے ہیں کہ وہ حماس کے ہتھیاروں کو برقرار رہنے کی اجازت نہیں دیں گے چاہے یہ ذمہ داری بین الاقوامی استحکامی فورس کو ہی کیوں نہ سونپی جائے۔
اسرائیل ان حماس جنگجوؤں کو ختم کرنے کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہے جو جنوبی اور مشرقی غزہ کی سرنگوں میں محصور ہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ محاصرے کے باعث ان میں سے درجنوں مارے جا چکے ہیں اور اس کے بعد وقف فائر کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کی طرف پیش رفت ہو گی۔
مشرق غزہ میں فوجی پیش قدمی
مقامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج نے حالیہ ایام میں شہر کے مشرقی حصے میں مزید پیش قدمی کی اور اس نے وہ پیلا حدِّفاصل بھی عبور کر لیا جہاں وہ معاہدے کے بعد پیچھے ہٹ گئی تھی۔ فوج نے الشعف، النزاز اور بغداد کی شاہراہوں کے قریب 300 میٹر تک اضافی رقبے پر کنٹرول مضبوط کر لیا ہے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام