ڈاکٹر محمد فاضلی سقزی، اہل سنت کے معروف مصنف اور محقق، اور مشہد کی فردوسی یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبر، اتوار کی شام (16 نومبر 2025ء) کو 87 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔
ڈاکٹر فاضلی 1938ء میں کردستان صوبے کے ضلع سقز کے مضافاتی گاؤں درہ سلیمان کےایک دینداراور کرد ی بولنے والے خاندان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ملا احمد رحمہ اللہ سے حاصل کی جو عارف و زاہد اور کردستان کے دینی مدارس کے معروف اساتذہ میں سے تھے۔
دینی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر فاضلی رحمہ اللہ نے کچھ عرصہ سقز کے محکمہ تعلیم میں تدریس کی اور 1961ء میں تہران یونیورسٹی کے شعبہء الہیات میں داخلہ لیا اور ساتھ ہی ٹیچر ٹریننگ کا امتحان بھی پاس کیا۔ انہوں نے 1972ء میں عربی زبان و ادب میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔
اسی سال سے انہوں نے مشہد کی فیکلٹی آف لٹریچر میں عربی اور فارسی زبان و ادب کے مختلف کورسز بیچلرز، ماسٹرز اور پی ایچ ڈی سطح پر پڑھانا شروع کیے۔ ساتھ ہی 1993ء سے تہران کی تربیت مدرس یونیورسٹی میں عربی اور فارسی زبان و ادب کے پی ایچ ڈی اور ماسٹرز پروگراموں میں بطور وزٹنگ پروفیسر خدمات انجام دیں اور علامہ طباطبائی یونیورسٹی اور الزہراء یونیورسٹی کے عربی شعبوں کے ساتھ بھی تعاون کیا۔ مرحوم ڈاکٹر محمد فاضلی 2003ء میں پروفیسر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔
ڈاکٹر فاضلی ممتاز اسکالرز میں سے تھے، تہران یونیورسٹی سے عربی زبان و ادب میں پی ایچ ڈی اور فردوسی یونیورسٹی مشہد میں اسی شعبے کے فل پروفیسر اور فیکلٹی ممبر تھے اور ان کے نام درجنوں تصنیف کردہ اور ترجمہ شدہ کتابیں اور سائنسی مضامین ثبت ہیں۔
سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر فاضلی رحمہ اللہ نے دہائیوں کی سائنسی سرگرمیوں کے دوران عربی زبان و ادب کے شعبے میں تعلیم و تحقیق کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا اور مختلف یونیورسٹیوں میں کئی نسلوں کے طلبہ نے ان کی تعلیم سے استفادہ کیا۔ انہوں نے اپنے تخصص کے میدان میں حوالہ جاتی کتابیں اور بنیادی مضامین تصنیف کیے جو آج بھی کئی یونیورسٹیوں کے نصابی کتب کا حصہ ہیں۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام