سنندج (سنی آن لائن) ایران کے مغربی صوبہ کردستان سے تعلق رکھنے والے دو مزید سنی علما کو ہمدان کی خصوصی عدالت نے قید و بند کی سزا سناکر خطابت و امامت سے منع کیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق، ہمدان کی خصوصی عدالت برائے علما نے ماموستا ملا لقمان امینی (خطیب جامع مسجد چاریار نبی سنندج اور کردستان کے دینی مدارس کے استاذ) کو گیارہ سال قید، دو سال تک اردبیل میں نظربندی، علما کے لباس نہ پہننے اور خطابت نہ کرنے کی سزا سنائی ہے۔
اسی عدالت نے ماموستا ابراہیم کریمی (جامع مسجد ننلہ سنندج کے امام و خطیب اور استاذ) کو بارہ سال قید،بوشہر میں دو سال نظربندی، علما کے لباس پہننے اور خطابت نہ کرنے کی سزا سنائی ہے۔
اس سے قبل مذکورہ عدالت میں ماموستا ملا سیف اللہ حسینی، ماموستا صابر خدامرادی، ماموستا عبدالجبار لطفی اور ماموستا سید جلال اکبری کو قید و بند اور کوڑے کی سزائیں سنائی ہے۔
یاد رہے ستمبر دوہزار بائیس میں پولیس کی تحویل میں ایک کرد خاتون کی موت کے بعد ایران کے مختلف صوبوں میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا اور سنی علما نے مختلف علاقوں میں عوام سے یکجہتی اور ان کے مطالبات ماننے پر زور دیاہے۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…