بھارت میں ہندو انتہاپسند غنڈوں نے ایک اورمسجد پر دھاوا پرتوڑ پھوڑ کی اورنمازیوں کو دھمکیاں دیں۔
مودی سرکار میں ہندو انتہاپسند منظم منصوبہ بندی سے مسلسل مساجد پرحملے کررہے ہیں۔ پولیس کی جانب سے ہندوانتہاپسند غنڈوں کے خلاف کارروائی نہ کیے جانے سے مسلمانوں پر تشدد اور قتل کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔
ریاست ہریانہ کے شہرگروگرام میں ہندو انتہا پسند غنڈوں کے ہجوم نے مسجد پر دھاوا بول دیا۔ہندو انتہاپسندوں نے مسجد میں توڑ پھوڑ کی نمازیوں پرتشدد کیا اور امام مسجد سمیت نمازیوں کوقتل کی دھمکیاں دیں۔نمازیوں کو ان کے خاندانوں سمیت علاقے سے نکالنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
ہندو انتہاپسندوں نے عشاء کی نماز کے دوران مسجد کے ہال کو تالا لگا دیا۔ ہندوانتہاپسندوں نے فجر میں بھی مسجد پر حملہ کیا تھا اورنمازیوں کو مسجد میں آنے سے منع کیا تھا۔ مسلمانوں کی شکایت کے باوجود پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی تاہم رات گئے مسلمانوں کے شدید احتجاج پر شکایت درج کرلی گئی۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…