سوئس حکومت نے ایک قانونی مسودہ پارلیمنٹ کو ارسال کیا ہے جس میں برقعہ پہننے پر ایک ہزار ڈالر جرمانہ عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
گزشتہ برس چہرے کو ڈھانپنے سے متعلق ریفرنڈم ہوا جس کے بعد قانونی مسودہ گزشتہ روز پارلیمنٹ میں ارسال کیا گیا، قانونی مسودہ کو ’برقع پر پابندی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ریفرنڈم میں 51.2 رائے کنندہ نے برقعہ پر پابندی کی حمایت کی تھی لیکن اس وقت اسے اسلامو فوبک اور جنس پرست قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
مشاورت کے بعد کابینہ نے ضابطہ فوجداری میں پابندی کو ختم کرنے اور مجرموں کو 10 ہزار ڈالر تک جرمانہ کرنے کے مطالبات کو مسترد کردیا تھا۔ کابینہ کے مطابق چہروں کو ڈھانپنے پر پابندی کا مقصد عوامی تحفظ اور امن کو یقینی بنانا ہے، سزا ترجیح نہیں ہے۔
8.6 ملین افراد پر مشتمل سوئس آبادی کا 5 فیصد مسلمان ہیں، جن میں سے زیادہ تر ترکی، بوسنیا اور ہرزیگووینا اور کوسوو سے ہیں۔ لوسرن یونیورسٹی کے اندازوں کے مطابق ملک میں صرف 30 خواتین ہی نقاب کرتی ہیں۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…