سوئس حکومت نے ایک قانونی مسودہ پارلیمنٹ کو ارسال کیا ہے جس میں برقعہ پہننے پر ایک ہزار ڈالر جرمانہ عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
گزشتہ برس چہرے کو ڈھانپنے سے متعلق ریفرنڈم ہوا جس کے بعد قانونی مسودہ گزشتہ روز پارلیمنٹ میں ارسال کیا گیا، قانونی مسودہ کو ’برقع پر پابندی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ریفرنڈم میں 51.2 رائے کنندہ نے برقعہ پر پابندی کی حمایت کی تھی لیکن اس وقت اسے اسلامو فوبک اور جنس پرست قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
مشاورت کے بعد کابینہ نے ضابطہ فوجداری میں پابندی کو ختم کرنے اور مجرموں کو 10 ہزار ڈالر تک جرمانہ کرنے کے مطالبات کو مسترد کردیا تھا۔ کابینہ کے مطابق چہروں کو ڈھانپنے پر پابندی کا مقصد عوامی تحفظ اور امن کو یقینی بنانا ہے، سزا ترجیح نہیں ہے۔
8.6 ملین افراد پر مشتمل سوئس آبادی کا 5 فیصد مسلمان ہیں، جن میں سے زیادہ تر ترکی، بوسنیا اور ہرزیگووینا اور کوسوو سے ہیں۔ لوسرن یونیورسٹی کے اندازوں کے مطابق ملک میں صرف 30 خواتین ہی نقاب کرتی ہیں۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…