بھارت میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی انتظامیہ نے ایم فل میں داخلے کے حوالے سے مقالہ جمع کروانے کی تاریخ میں توسیع کیلئے احتجاج کرنے والی ریسرچ اسکالر اور سماجی کارکن صفورہ زرگر پر پر پابندی لگادی۔
خیال رہے کہ یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب مقالہ جمع نہ کروانے کی بنیاد پر ایم فل کے داخلے منسوخ کردیے گئے تھے۔
اس حوالے سے جامعہ کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ مظاہرے اور مارچ صفورہ زرگر پر پابندی کی وجہ بنے۔
جامعہ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ صفورا زرگر جامعہ کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے طلبہ کو اشتعال دلوا کر اپنا سیاسی ایجنڈا پورا کر رہی ہیں۔
خیال رہے کہ سماجی کارکن صفورہ زرگر کو دہلی مظاہروں کے دوران گرفتار کرلیا گیا تھا جبکہ انہیں جون 2020 میں حاملہ ہونے کی وجہ سے ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ جامعہ کی انظامیہ کی جانب سے صفورہ زرگر اور دیگر ساتھیوں کو 29 اگست کو جامعہ سے نکال دیا گیا تھا، جس کے بعد وہ اور دیگر طلبہ جامعہ کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جبکہ اپنے مقالے جمع کروانے کے لیے تاریخ میں توسیع کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…