نومنتخب امریکی صدرجوبائیڈن طالبان کے ساتھ امن معاہدے کا جائزہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ افغانستان میں تشدد میں کمی سمیت افغان حکومت اوردوسرے فریقوں کے ساتھ بامعنی مذاکرات کیے جا سکیں۔
امریکی قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایملی ہورن کا کہنا ہے کہ امریکی قومی سلامتی کے نئے مشیرجیک سلیون نے اپنے افغان ہم منصب حمداللہ محب سے بات کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ امریکی انتظامیہ امن معاہدے کا جائزہ لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔
ترجمان ایملی ہورن کے مطابق امریکا کی جانب سے جائزہ لیا جائے گا کہ طالبان امن معاہدے میں شامل اپنی ذمہ داریوں کے مطابق تشدد میں کمی کررہے ہیں یا نہیں تاکہ افغانستان میں تشدد میں کمی سمیت افغان حکومت اور دوسرے فریقوں کے ساتھ بامعنی مذاکرات کیے جا سکیں۔
ترجمان ایملی ہورن نے کہا کہ مشیرجیک سلیون نے واضح کیا کہ امریکا علاقائی سطح پر سفارتی کوششوں کے ساتھ امن عمل کی حمایت کرے گا تاکہ فریقین مسئلے کا پائیدار اورصحیح سیاسی حل تلاش کرسکیں۔
واضح رہے افغانستان میں امریکا کی 19 سال سے جاری جنگ کو اختتام پذیر کرنے کے لیے امریکا اور طالبان کے مابین تاریخی امن معاہدہ 29 فروری 2020 کوطے پایا تھا، اس معاہدے کے مطابق نہ صرف امریکا مئی 2021 تک اپنی فوجوں کا انخلا کرے گا بلکہ امریکا اور طالبان، افغان فریقین کے مابین مذاکرات سے پہلے ہزاروں قیدیوں کا تبادلہ کریں گا، تاہم یہ معائدہ متعدد مسائل کے باعث تاخیر کا شکارہوگیا۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام