جرمنی کی ایک مسجد پر ڈیڑھ سو سے زائد نقاب پوش پولیس اہلکاروں نے عین اس وقت چھاپا مارا جب وہاں باجماعت نماز ادا کی جارہی تھی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمنی کے دارالحکومت برلن میں 150 سے زائد نقاب پوش پولیس اہلکاروں نے ’میولانا مسجد‘ میں صبح کی نماز کے وقت چھاپہ مارا۔ پولیس اہلکاروں نے مسجد کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے جوتے سمیت مسجد میں گھومتے رہے اور تلاشی لی۔
جرمن پولیس نے دعویٰ کیا کہ کورونا وبا کے دوران دھوکا دہی کے ذریعے سبسڈی حاصل کرنے کی تفتیش کے سلسلے میں مسجد پر چھاپہ مار کارروائی کی گئی تھی اور چند دستاویزات تحویل میں لی گئی ہیں۔
ادھر مسجد کمیٹی نے اپنے بیان میں کورونا سبسڈی میں فراڈ کے الزام کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ جوتے پہنے اہلکاروں نے مسجد کی بےحرمتی کی اور مسجد سے 7 ہزار یورو، کمپیوٹرز، دستاویزات اور موبائل اپنے ہمراہ لے گئے۔
دوسری جانب ترکی کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں جرمنی کی میولانا مسجد پر پولیس اہلکاروں کے چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے یہ حملہ ایک مسجد پر نہیں بلکہ جرمنی میں مقیم 50 لاکھ مسلمانوں پر ہے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام