تہران (سنی آن لائن) ایران کے صوبہ خراسان جنوبی سے تعلق رکھنے والی ایک مستورات کی جماعت بھارتی شہر حیدرآباد میں سات ماہ قید اور نظربندی کے بعد واپس گھر پہنچ گئی۔
اہل سنت ایران کی آفیشل نیوز ویب سائٹ (سنی آن لائن) کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، سولہ افراد پر مشتمل جماعت حیدرآباد میں تھی کہ کورونا وائرس پھلینے کی وجہ سے واپسی کے راستے بند ہوگئے۔ بعد میں بھارتی حکام نے ایرانی شہریوں کو غیرقانونی طورپر نظربند کرکے ان پر مقدمہ چلایا گیا۔ تبلیغی کارکنوں پر غیرقانونی اجتماع میں شرکت کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ عدالت لائے۔ اس دوران ملیشیا، انڈونشیا اور سوڈان سے تعلق رکھنے والے متعدد کارکن بھی بھارتی حراست میں رہے جنہیں بعد میں رہا کیا گیا۔
ایران کے سنی شہری بدھ تیس ستمبر کو تہران پہنچے جہاں ان کا استقبال کیا گیا۔ رہائی پانے والے شہری کل رات سرکاری پروٹوکول کے ساتھ بیرجند کے قریب نوغاب نامی بستی پہنچ گئے جن کا مقامی لوگوں نے شاندار استقبال کیا۔
یاد رہے اس جماعت میں شامل دو خواتین نے دوران حراست اپنے بچوں کو جنم دیا ہے اور انہیں غیرمناسب جگہ رکھنے کی وجہ سے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑاہے۔ اس جماعت میں شامل دو غیرشادی شدہ حضرات ابھی تک بھارت میں ہیں جن کی واپسی کی تلاش جاری ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…