چابہار (سنی آن لائن) ایرانی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز انجینئر ’مہراب اُمرا‘ جمعرات ستائیس اگست دوہزار بیس کو چابہار میں انتقال کرگئے۔
سنی آن لائن کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، انجینئر مہراب امرا چابہار ٹیکنیکل کالج کے سربراہ اور بلوچی زبان و ادب کے سرگرم کارکن تھے۔ انتقال کے وقت ان کی عمر 45 برس تھی۔
انجینئر مہراب امرا 1977ء کو سراوان میں پیدا ہوئے۔ آپ نے زاہدان کی سیستان بلوچستان یونیورسٹی سے ٹیکنیکل انجینئرنگ میں بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد تہران چلے گئے جہاں انہوں نے پیامِ نور یونیورسٹی سے آئی ٹی مینجمنٹ میں ماسٹرز کیا۔
موصوف صوبہ سیستان بلوچستان کے مذہبی، ثقافتی، سماجی اور ادبی کارکنوں میں شمار ہوتے تھے۔ قرآن پاک کا بلوچی ترجمہ ان کی نگرانی میں ریکارڈ ہوکر وائس سی ڈی کی شکل میں شائع ہوا ہے۔ بلوچی اشعار کے دیوان کی اشاعت اور سراوان ٹیکنیکل کالج کی تاسیس بھی ان کی خدمات میں شامل ہیں۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…