جرمنی کی عدالت نے اسکول ٹیچرز کے اسکارف پہننے پر پابندی کو غیر قانونی قرار دیدیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمنی کی وفاقی لیبر کورٹ نے ملک بھر میں اسکولوں کی خاتون اساتذہ کے سر پر ڈھانپنے کے لیے اسکارف پہننے کی پابندی عائد کرنے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شہری کو اس کے بنیادی حقوق اور اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے سے نہیں روکا جا سکتا ہے جب کہ وہ عمل ملک میں فساد کا باعث بھی نہ ہو۔
برلن کی عدالت نے یہ فیصلہ ایک مسلم خاتون کے مقدمے میں سنایا جس میں مذکورہ خاتون نے استدعا کی تھی کہ وہ شہر کے سرکاری اسکول میں پڑھاتی ہیں اور انہیں صرف اس لیے کام کرنے سے روک دیا گیا کیوں کہ وہ ہیڈ اسکارف پہنتی ہیں۔
جرمنی کی وفاقی عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ درخواست گزار کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کیا گیا جو کہ خلافِ قانون ہے۔ برلن سے منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی نے عدالت کے فیصلے کے بعد خواتین اساتذہ کے اسکارف پہننے سے متعلق متنازع قوانین میں تبدیلی کا مطالبہ کردیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…