جرمنی کی عدالت نے اسکول ٹیچرز کے اسکارف پہننے پر پابندی کو غیر قانونی قرار دیدیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمنی کی وفاقی لیبر کورٹ نے ملک بھر میں اسکولوں کی خاتون اساتذہ کے سر پر ڈھانپنے کے لیے اسکارف پہننے کی پابندی عائد کرنے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شہری کو اس کے بنیادی حقوق اور اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے سے نہیں روکا جا سکتا ہے جب کہ وہ عمل ملک میں فساد کا باعث بھی نہ ہو۔
برلن کی عدالت نے یہ فیصلہ ایک مسلم خاتون کے مقدمے میں سنایا جس میں مذکورہ خاتون نے استدعا کی تھی کہ وہ شہر کے سرکاری اسکول میں پڑھاتی ہیں اور انہیں صرف اس لیے کام کرنے سے روک دیا گیا کیوں کہ وہ ہیڈ اسکارف پہنتی ہیں۔
جرمنی کی وفاقی عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ درخواست گزار کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کیا گیا جو کہ خلافِ قانون ہے۔ برلن سے منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی نے عدالت کے فیصلے کے بعد خواتین اساتذہ کے اسکارف پہننے سے متعلق متنازع قوانین میں تبدیلی کا مطالبہ کردیا۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…