بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں نے مودی زندہ باد اور جے شری رام کا نعرہ نہ لگانے کی پاداش میں 52 سالہ رکشہ ڈرائیور کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق راجھستان کے علاقے میں دو کار سوار انتہا پسند ہندوؤں نے رکشہ ڈرائیور 52 سالہ عبدالغفار کو روکا اور سگریٹ مانگی جس پر تلخ کلامی ہوئی تو کار سواروں نے بزرگ شہری پر تھپڑوں کی بارش کردی۔
رکشہ ڈرائیور عبدالغفار نے تھوڑی مزاحمت کی اور وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے تاہم کارسواروں نے کچھ فاصلے پر انہیں دوبارہ پکڑ لیا اور جے شری رام اور مودی زندہ باد کے نعرے لگانے کا مطالبہ کیا۔
رکشہ ڈرائیور کے انکار پر انتہا پسندوں نے انہیں بری طرح مارا پیٹا جس سے بزرگ شہری کے دانت ٹوٹ گئے اور ایک آنکھ سوج گئی جب کہ جسم کے دیگر حصوں میں بھی چوٹیں آئیں۔
انتہا پسندوں نے 52 سالہ عبدالغفار کا رکشہ اور نقدی چھیننے کے بعد انہیں جانے دیا۔ اہل خانہ نے پولیس میں رپورٹ درج کرائی جس کے بعد پولیس نے دو ملزمان کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…