عازمین حج گزشتہ روز لبیک اللھم لبیک کی صدائیں بلند کرتے نماز ظہر سے قبل مکہ مکرمہ سے منیٰ پہنچ گئے۔
منیٰ پہنچنے کے بعد انھوں نے رات قیام کیا اور نماز فجر کے بعد میدان عرفات پہنچ گئے جہاں حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا کیا۔ مسجد نمرہ سے مفتیِ اعظم نے خطبہ حج دیا جس کے بعد نماز ظہر اور عصر ایک ساتھ ادا کی گئی۔
عصر اور مغرب کے درمیان وقوف ہوا جس میں حجاج نے اللہ رب العزت کے حضور خصوصی دعائیں کیں، سورج غروبِ ہوتے ہی حاجی مزدلفہ روانہ ہو جائیں گے، جہاں پہنچ کر مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کریں گے۔
مزدلفہ میں رات کھلے آسمان تلے گزاریں گے اور شیطانوں کو مارنے کے لیے کنکریاں چنیں گے، جمعہ کی صبح نماز فجر کی ادائیگی کے بعد حاجی واپس منیٰ چلے جائیں گے۔
شیطان کو کنکریاں ماریں گے اور قربانی ادا کرکے اور بال منڈوا کر احرام کھول دیں گے اور عام لباس زیب تن کر لیں گے، حاجی طواف زیارہ کیلئے خانہ کعبہ جائیں گے اور پھر واپس منٰی آ جائیں گے۔ گذشتہ روز بھی عازمین نے قرنطینہ ختم کرکے خانہ کعبہ کا طواف کیا اس دوران سماجی فاصلے کو مدنظر رکھا گیا۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار